تہران ( پاک ترک نیوز) ایران کے ہاتھ امریکی فوج کا زیرِ آب ڈرون لگنے کے بعد تہران کی جانب سے اس کی ٹیکنالوجی کی نقل تیار کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ قبضے میں جانے والا زیرِ آب ڈرون پرانا نمونہ تھا، جو خرابی کے باعث سمندر میں بے کار ہوگیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق ڈرون میں حساس معلومات یا خفیہ نگرانی کے آلات موجود نہیں تھے۔
دوسری جانب دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران ڈرون کو کھول کر اس کے مشینی نظام، ساخت اور دیگر حصوں کا تفصیلی جائزہ لے سکتا ہے۔ ایران ماضی میں بھی امریکی ٹیکنالوجی کی نقل تیار کرنے کی کوشش کر چکا ہے۔دو ہزار گیارہ میں ایران نے امریکی خفیہ نگرانی کرنے والا جدید طیارہ قبضے میں لیا تھا، جس کے بعد تہران نے دعویٰ کیا کہ اس نے اس کی ٹیکنالوجی کی نقل تیار کرلی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ریڈیو پاکستان حملہ میں ملوث ،پولیس رپورٹ عدالت میں پیش
ایرانی سفارت خانوں نے امریکی ڈرون کے قبضے پر طنزیہ بیانات بھی جاری کیے اور اسے اپنی کامیابی قرار دیا۔ماہرین کے مطابق ایران کو اس ڈرون سے فیصلہ کن فوجی برتری حاصل ہونے کا امکان نہیں، تاہم اس کی ساخت اور مشینی نظام کا مطالعہ تہران کو اپنی زیرِ آب دفاعی ٹیکنالوجی بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
امریکی ساختہ یہ زیرِ آب ڈرون طویل فاصلے تک نگرانی اور کئی روز تک کم انسانی مداخلت کے ساتھ کارروائیوں کے لیے تیار کیا گیا تھا، اس لیے اس کا ایران کے ہاتھ لگنا واشنگٹن کے لیے دفاعی اور تشہیری اعتبار سے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔












