اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان میں چین کے جدید طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والے ریڈارز کی ممکنہ تنصیب کی سیٹلائٹ تصاویر سامنے آنے کے بعد بیلسٹک میزائل دفاعی نظام حاصل کرنے سے متعلق قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔دفاعی امور کی ویب سائٹ کووا (Quwa) کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2026 سے مبصرین پاکستان میں چینی کمپنی سی ای ٹی سی کے تیار کردہ ایس ایل سی 12 یا ایس ایل سی 14 ریڈارز کی موجودگی کی تصاویر شیئر کر رہے ہیں۔ اگر ان تصاویر کی نشاندہی درست ہے تو یہ پاکستان کی جانب سے چین کا جدید ایچ کیو 19 بیلسٹک میزائل دفاعی نظام حاصل کرنے کی تیاری کا اشارہ ہوسکتی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایچ کیو 19 کی ممکنہ خریداری کا ابتدائی اشارہ حکومت پاکستان کی سوشل میڈیا پوسٹ سے ملا تھا، جسے بعد میں ہٹا دیا گیا۔ اس پوسٹ میں چین کی جانب سے پاکستان کو جے 35 اے ای اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں، کے جے 500 ای فضائی نگرانی کے نظام اور ایچ کیو 19 سمیت بڑے دفاعی پیکج کی پیشکش کا ذکر تھا۔رپورٹ کے مطابق قومی کمانڈ اتھارٹی کے مشیر اور ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل خالد قدوائی کے بھارتی بحریہ کی جوہری طاقت سے چلنے والی بیلسٹک میزائل آبدوزوں سے متعلق بیانات بھی پاکستان کی دفاعی حکمت عملی میں ممکنہ تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔تجزیے کے مطابق بھارت کی سمندر سے جوہری حملے کی صلاحیت پاکستان کے لیے ایک نیا اسٹریٹجک چیلنج بن سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے فی الحال اپنی جوہری طاقت سے چلنے والی آبدوز تیار کرنا یا حاصل کرنا مشکل راستہ ہے، اس لیے بیلسٹک میزائل دفاعی نظام کو ایک ممکنہ متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔رپورٹ میں پاکستان نیوی کی مثال دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ بھارتی براہموس میزائلوں کے مقابلے کے لیے پاکستان نے چین سے سی ایم 302 میزائل حاصل کیے، جبکہ اٹلی سے کیم ایم ای آر فضائی دفاعی نظام بھی حاصل کیا، تاکہ دفاعی اور جوابی صلاحیت دونوں کو بہتر بنایا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے، قوم تشویش میں مبتلا ہے، بیرسٹر گوہر
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے ہنگور کلاس روایتی آبدوزوں کو جوہری وارہیڈ سے لیس کروز میزائلوں سے مسلح کرنے کے امکان پر بھی بات ہوتی رہی ہے، تاہم اس حکمت عملی سے آبدوزوں کی بحری جہازوں اور دشمن آبدوزوں کے خلاف کارروائی کی صلاحیت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔دفاعی تجزیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے لیے فوری طور پر اپنی جوہری طاقت سے چلنے والی آبدوزوں کی صلاحیت حاصل کرنا آسان نہیں، اس لیے بیلسٹک میزائل دفاعی نظام ایک قابلِ رسائی راستہ ہوسکتا ہے۔
اہم وضاحت: پاکستان میں ایچ کیو 19 نظام کی خریداری یا باقاعدہ تنصیب کی سرکاری تصدیق فراہم کردہ رپورٹ میں موجود نہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر ریڈارز کی شناخت اور نظام کی ممکنہ خریداری کو فی الحال دفاعی تجزیہ اور قیاس آرائی کے طور پر ہی بیان کیا جانا چاہیے۔











