اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکرٹری جنرل سید نیئر حسین بخاری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے مشاورت کی تو آئین کے تحت تجاویز دیں گے۔نیر حسین بخاری کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی ناکامی کی صورت میں گورنر کی تجویز پر آئین کے مطابق گورنر راج نافذ کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کے موجودہ حالات اور حقائق کو مدنظر رکھا جائے تو گورنر راج ماورائے آئین اقدام نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے، وزیراعلیٰ کے اپنے ضلع سمیت دیگر علاقوں میں شہری شام کے بعد گھروں تک محدود رہتے ہیں۔نیر حسین بخاری نے کہا کہ صوبے میں روزانہ دہشت گرد حملوں میں پاک فوج اور پولیس کے افسران و اہلکاروں سمیت شہری شہید ہو رہے ہیں۔ ان کا سوال تھا کہ پی ٹی آئی قیادت اور صوبائی ذمہ داران شہدا کے جنازوں میں کیوں شریک نہیں ہوتے؟انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی حکومت کی ترجیح عوامی مسائل کے بجائے ایک فرد کی رہائی ہے، جبکہ اسلام آباد چڑھائی کے لیے صوبائی وسائل کا ضیاع اور اختیارات کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی جارحیت کے باعث تباہ حال غزہ کی پٹی کی سیٹلائٹ تصاویر نے ہلچل مچادی
پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ پی ٹی آئی کو ریلیف مزاحمت سے نہیں بلکہ عدلیہ سے ملے گا۔ ان کے مطابق پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم سیاست کی آڑ میں ریاست پر حملہ ناقابل برداشت ہے۔نیر حسین بخاری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ مذاکرات پر یقین رکھتی ہے اور ماضی میں بدترین سیاسی مخالفین سے بھی مذاکرات کیے ہیں۔ قومی معاملات ہمیشہ گفت و شنید کے ذریعے حل ہوتے ہیں۔انہوں نے پی ٹی آئی کے سیاسی طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا ماضی کا ریکارڈ اچھا نہیں اور اس کا طرزِ عمل قابلِ اعتماد نہیں۔ ان کے بقول پی ٹی آئی دھڑے بندی کا شکار ہے اور مختلف دھڑے الگ الگ مؤقف رکھتے ہیں۔












