انقرہ: (پاک ترک نیوز)یونان اور ترکیہ اپنے تجارتی حجم کو 10 بلین ڈالرتک لے جانے کا ہدف رکھتے ہیں، جس کا اعلان بدھ کو انقرہ میں ہونے والی سمٹ سے پہلے سامنے آیا۔ اس اجلاس میں یونان کے وزیر اعظم کیریاکوس میتسوٹاکس اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان ملاقات کریں گے۔
یہ چھٹا ہائی-لیول کوآپریشن کونسل (HLCC) اجلاس ہوگا، جس کی صدارت دونوں رہنما مشترکہ طور پر کریں گے اور دونوں ممالک کے اہم کابینہ وزراء بھی شریک ہوں گے۔
یہ اجلاس "پازیٹو ایجنڈا” کے تحت تاریخی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر عملی تعاون پر توجہ مرکوز کرنے کا تازہ اقدام ہے۔2023 میں ایتھنز سمٹ کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک نے مشترکہ اقدامات میں تیزی لائی، جن میں بنیادی ڈھانچے، معیشت، ماحولیات، صحت، سیاحت اور ثقافتی تبادلے شامل ہیں۔
گزشتہ پانچ سالوں میں یونان اور ترکیہ کے درمیان تجارتی تعلقات میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ 2021 میں دونوں ممالک کے درمیان کل تجارتی حجم 5.3 بلین ڈالرتھا، جو 2022 میں5.5 بلین ڈالراور 2023 میں 5.8 بلین ڈالرتک پہنچا۔ 2024 میں یہ حجم 6.2 بلین ڈالرتک بڑھ گیا اور 2025 کے اختتام پر یہ نئے ریکارڈ6.7 بلین ڈالرتک پہنچ گیا۔
یہ موجودہ6.7 بلین ڈالرکی بنیاد 10 بلین ڈالرکے مستقبل کے ہدف کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے، جسے دونوں رہنما آنے والے دوطرفہ معاہدوں کے ذریعے حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
تجارتی حجم بڑھنے کے باوجود، موجودہ تجارتی توازن ترکی کے حق میں ہے، جس نے گزشتہ سال4.1 بلین ڈالرکا تجارتی سرپلس برقرار رکھا۔
اہم تجارتی اشیاء پر نظر ڈالیں تو یہ رجحانات واضح ہوتے ہیں:ترکی سے یونان برآمدات: 2021 سے 2025 تک 71.9 فیصد اضافہ، جو5.4 بلین ڈالرتک پہنچ گئی۔
اہم برآمدات میں معدنی ایندھن اور تیل (1.8 بلین ڈالر)، لوہا اور اسٹیل (422.7 ملین ڈالر)، اور برقی مشینری (387.5 ملین ڈالر) شامل ہیں۔
یونان سے ترکیہ برآمدات: گزشتہ پانچ سالوں میں کچھ اتار چڑھاؤ کے بعد 2025 میں تقریباً 1.3 بلین ڈالر رہی۔یہ تجارتی پیش رفت دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرنے اور خطے میں مثبت تعاون کے فروغ کا مظہر ہے، جبکہ انقرہ سمٹ سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس ہدف کو مزید قریب لے آئے گا۔












