واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)دنیا کے طاقتور ترین عہدے پر بیٹھا شخص اور بات ہو رہی ہے کرکٹ کی۔ جی ہاں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اچانک کرکٹ ورلڈ کپ کے منظرنامے میں داخل ہو گئے ہیں، اور وہ بھی ایسے انداز میں جس نے بھارت میں جاری ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک مختصر مگر چونکا دینے والا پیغام جاری کیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں ابھی معلوم ہوا ہے کہ بھارت میں کرکٹ ورلڈ کپ جاری ہے، اور ان کی نیک تمنائیں امریکی کرکٹ ٹیم کے ساتھ ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی ٹیم بہت مضبوط ہے اور پوری قوم اپنی ٹیم کے پیچھے کھڑی ہے۔ یہ بیان محض ایک رسمی پیغام نہیں تھا، بلکہ اس وقت آیا ہے جب امریکا خاموشی سے کرکٹ کی دنیا میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔
وہ امریکا، جسے کبھی کرکٹ میں غیر سنجیدہ سمجھا جاتا تھا، آج ورلڈ کپ میں بڑی ٹیموں کے لیے ایک غیر متوقع خطرہ بنتا جا رہا ہے۔اس کی ایک جھلک بھارت کے خلاف پہلے ہی میچ میں دیکھنے کو ملی۔
میزبان ٹیم، اپنے ہجوم، دباؤ اور اعتماد کے ساتھ میدان میں اتری، مگر کچھ ہی اوورز میں منظر بدل گیا۔امریکی بولرز نے ایسی لائن اور لینتھ پکڑی کہ ایک موقع پر بھارت کے چھ کھلاڑی صرف ستتر رنز پر پویلین لوٹ چکے تھے۔
اسٹیڈیم میں خاموشی چھا گئی، اور سوشل میڈیا پر ایک ہی سوال گونجنے لگا۔ کیا امریکا ایک اور بڑا اپ سیٹ کرنے جا رہا ہے؟
لیکن کرکٹ بے رحم کھیل ہے۔یہاں ایک کھلاڑی پورا میچ پلٹ سکتا ہے۔بھارتی کپتان سوریاکمار یادو نے وہی کردار ادا کیا۔
انہوں نے دباؤ میں ذمہ داری لی، رفتار بدلی اور 49 گیندوں پر ناقابلِ شکست چوراسی رنز بنا کر بھارت کو 161 تک پہنچا دیا۔ہدف بڑا نہیں تھا، مگر دباؤ بے حد تھا۔
امریکی بیٹنگ شروع ہوئی تو امیدیں موجود تھیں، مگر پاور پلے میں تین وکٹیں گر گئیں۔ہر اوور کے ساتھ میچ ہاتھ سے نکلتا گیا۔مڈل آرڈر نے کوشش کی، مگر تجربہ فیصلہ کن ثابت ہوا، اور بھارت یہ مقابلہ انتیس رنز سے جیت گیا۔
اس شکست کے باوجود ایک حقیقت واضح ہو چکی تھی۔یہ وہی امریکی ٹیم نہیں رہی جسے کبھی ہنسی میں لیا جاتا تھا۔یاد ہو تو گزشتہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں یہی امریکا تھا جس نے پاکستان کو شکست دے کر دنیا کو حیران کر دیا تھا، اور پہلی بار سپر ایٹ مرحلے تک پہنچا تھا۔
اب کہانی ایک اور موڑ لینے جا رہی ہے۔امریکا کا اگلا مقابلہ پاکستان کے خلاف۔مقام کولمبو، اور دباؤ دونوں جانب برابر۔
پاکستان نیدرلینڈز کو شکست دے کر اعتماد کے ساتھ میدان میں اترے گا، جبکہ امریکا کے پاس ثابت کرنے کو بہت کچھ ہو گا۔
اور ایسے میں جب امریکی صدر خود کہہ رہے ہوں کہ ٹیم مضبوط ہے،تو سوال صرف یہ نہیں کہ میچ کون جیتے گا؟ سوال یہ ہے کہ کیا امریکا ایک بار پھر تاریخ دہرانے جا رہا ہے؟یہ ورلڈ کپ اب صرف کرکٹ نہیں رہا۔یہ طاقت، پیغام اور اعصاب کی جنگ بن چکا ہے۔












