اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) یکم جولائی سے تنخواہ دار طبقے کے لیے کیا بدلنے جا رہا ہے؟ کیا آپ کی ماہانہ تنخواہ پہلے سے کم ہو جائے گی؟ نئے مالی سال کے آغاز پر حکومت نے انکم ٹیکس کے نئے سلیبس متعارف کرا دیے ہیں، جن کے اثرات لاکھوں ملازمین کی جیبوں پر پڑ سکتے ہیں۔
نئے فنانس بل کے مطابق سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے افراد بدستور انکم ٹیکس سے مستثنیٰ رہیں گے۔ تاہم 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن والوں کو ایک فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں ملازمت کیلئے سخت قوانین نافذ
اس کے بعد درمیانی آمدن والے ملازمین پر ٹیکس کی شرح میں نمایاں اضافہ شروع ہو جاتا ہے۔ 12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والوں پر 6 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس کے ساتھ اضافی آمدن پر 11 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔
اسی طرح 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدن والوں کو ایک لاکھ 16 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس کے علاوہ اضافی رقم پر 20 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جبکہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدن والوں پر 25 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔
41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے سالانہ کمانے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 29 فیصد مقرر کی گئی ہے، جبکہ 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد 9 لاکھ 76 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس کے ساتھ اضافی رقم پر 32 فیصد ٹیکس ادا کریں گے۔
سب سے زیادہ آمدن والے افراد بھی نئے نظام سے متاثر ہوں گے۔ 70 لاکھ روپے سے زائد سالانہ آمدن رکھنے والوں پر 14 لاکھ 24 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس کے علاوہ اضافی آمدن پر 35 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ نئے سلیبس کے بعد آپ کی ماہانہ تنخواہ سے کتنی رقم کٹے گی؟ کیا یہ تبدیلی واقعی ریلیف ثابت ہوگی یا تنخواہ دار طبقے پر ایک نیا مالی بوجھ بن جائے گی؟ اپنی آمدن کے مطابق حساب لگائیں اور جانیں کہ یکم جولائی کے بعد آپ کی جیب پر کتنا اثر پڑنے والا ہے۔












