لاہور( پاک ترک نیوز) دنیا بھر میں گاڑیوں کی شناخت کے لیے استعمال ہونے والی نمبر پلیٹوں کا نظام آج ایک لازمی قانونی تقاضا بن چکا ہے، مگر اس کی ابتدا 19ویں صدی کے آخر میں فرانس سے ہوئی تھی۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق 1893 میں پیرس پولیس نے ایک تاریخی قانون متعارف کرایا جس کے تحت ہر گاڑی پر شناختی نمبر لگانا لازمی قرار دیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد حادثات اور قانون شکنی کی صورت میں گاڑی اور مالک کی فوری شناخت کو ممکن بنانا تھا۔
فرانس کے بعد یہ نظام دیگر یورپی ممالک تک پہنچ گیا،جرمنی نے 1896 میں اسے ملک گیر سطح پر نافذ کیا ۔ نیدر لینڈز نے 1898 میں اسے باقاعدہ قومی ٹریفک قانون کا حصہ بنایا
یہ بھی پڑھیں: ماری انرجیز کی شمس-1 دریافت سے گیس کی فراہمی شروع
امریکا میں میں 1901 میں نیویارک نے گاڑیوں کے لیے نمبر پلیٹ لازمی قرار دی۔ ابتدائی طور پر یہ ذمہ داری مالکان پر تھی، تاہم 1903 کے بعد سرکاری پلیٹس جاری ہونا شروع ہو گئیں۔
برصغیر میں 1914 کے موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت پہلی بار گاڑیوں کی رجسٹریشن اور شناخت کے لیے نمبر پلیٹس لازمی قرار دی گئیں۔ بھارت میں بعد ازاں 1939 کے قانون نے اس نظام کو مزید منظم کیا۔ بعد ازاں 1939 اور 1988 کے قوانین کے ذریعے اس نظام کو جدید اور منظم شکل دی گئی۔
قیام پاکستان کے بعد پاکستان نے اسی برطانوی دور کے نظام کو جاری رکھا ،ابتدائی طور ہر صوبے میں الگ رجسٹریشن سسٹم تھا ،نمبر پلیٹس کا ڈیزائن یکساں نہیں تھا ،ریکارڈ زیادہ تر مینوئل تھا ، وقت کے ساتھ پاکستان نے اپنے نظام کو ڈیجیٹل اور منظم بنایا آج کل ہر صوبہ اپنی الگ سیریز اور ڈیزائن استعمال کرتا ہے۔
پاکستان میں نمبر پلیٹ کا نظام ایک صدی سے زائد پرانا سفر طے کر کے آج ایک جدید، ڈیجیٹل اور سکیورٹی پر مبنی نظام بن چکا ہے۔ ابتدا ایک سادہ شناختی طریقے سے ہوئی تھی، مگر آج یہ ٹریفک کنٹرول، قانون نافذ کرنے اور گاڑیوں کی مکمل ڈیجیٹل ٹریکنگ کا اہم ذریعہ بن چکا ہے۔






