اسلام آباد (پاک ترک نیوز )حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی کشیدگی ختم کرنے کے لیے پسِ پردہ رابطے جاری ہیں جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان پیدا ہونے والا ڈیڈ لاک ختم کرانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے پیپلز پارٹی سے مذاکرات کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی کو مکمل مینڈیٹ دے دیا ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی مثبت جواب سامنے آیا ہے اور قانون سازی کے معاملے پر لچک دکھانے پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی درخواست پر قومی اسمبلی کا اجلاس 21 ستمبر کو بلانے کا فیصلہ بھی تبدیل کردیا گیا ہے۔ اب قومی اسمبلی کا اجلاس اکتوبر کے آغاز میں بلائے جانے کا امکان ہے۔
اسپیکر ایاز صادق نے پیپلز پارٹی سے ہونے والے مذاکرات اور رابطوں پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو بھی اعتماد میں لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض آئینی عہدوں میں تبدیلی کا معاملہ بھی فی الحال موخر کردیا گیا ہے، جبکہ حکومت بلوچستان کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ بلوچستان حکومت میں فوری تبدیلی نہیں آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں : امام الحق اور محمد رضوان کی نیشنل سائبر کرائم ایجنسی میں پیشی
اسپیکر ایاز صادق کا حالیہ دورہ بھی حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان مفاہمت کی کوششوں کی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق مقتدر حلقوں کی جانب سے بھی اسپیکر ایاز صادق کی مفاہمتی اور مذاکراتی کوششوں کی مکمل حمایت کی جا رہی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی نے بھی اسپیکر ایاز صادق پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
اسپیکر نے سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے حکومت اور پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت سے رابطے کیے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی حکومت کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق کرچکے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر ایاز صادق اب صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات کرانے کے لیے بھی کوششیں کر رہے ہیں، جس کے بعد حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان معاملات مزید آگے بڑھنے کی توقع ہے۔ئی










