پیرس / بگوٹا: (پاک ترک نیوز)کولمبیا کی فضائیہ کے پرانے لڑاکا طیاروں کی جگہ نئے طیارے خریدنے کے لیے 2022 ءمیں فرانس کا رافیل طیارہ مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا تھا اور پیرس کو یقین تھا کہ وہ جنوبی امریکا کے ایک اہم ملک کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ کرنے کے قریب ہے۔
ڈیسالٹ ایوی ایشن کی پیشکش تقریباً 2.96 ارب یورو مالیت کی تھی جس میں جنگ میں آزمودہ طیارے، مضبوط صنعتی تعاون اور برآمدات کا کامیاب ریکارڈ شامل تھا۔
تاہم 3 سال بعد کولمبیا کی حکومت نے اچانک فیصلہ بدلتے ہوئے سویڈن کی کمپنی Saab کے جے اے ایس 39 گرپین طیارے خریدنے کا اعلان کر دیا، حالانکہ اس پر زیادہ رقم خرچ ہو رہی ہے۔
اس معاہدے کے تحت کولمبیا اپنی چار دہائی پرانی اسرائیلی ساختہ طیاروں کی جگہ 16 جدید گرپین طیارے حاصل کرے گا۔ یہ فیصلہ فرانس کے لیے صرف مالی نقصان نہیں بلکہ لاطینی امریکا میں طویل مدتی دفاعی موجودگی کے ایک بڑے موقع کے ضائع ہونے کے مترادف ہے۔
رافیل اور گرپین دونوں جدید ملٹی رول لڑاکا طیارے ہیں جو فضائی جنگ، زمینی حملوں اور نگرانی کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے صرف کارکردگی کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا گیا۔
دفاعی معاہدوں میں سیاسی تعلقات، صنعتی شراکت داری اور طویل مدتی تکنیکی خودمختاری جیسے عوامل زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ سویڈن کی جانب سے ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی سطح پر دیکھ بھال اور اپ گریڈ کی سہولت اور دفاعی خودمختاری کا تصور کولمبیا کے لیے زیادہ پرکشش ثابت ہوا۔
اس فیصلے سے بوگوٹا کو امریکا اور فرانس جیسے روایتی سپلائرز سے ہٹ کر دفاعی تعلقات متنوع بنانے کا موقع بھی ملے گا۔یہ نقصان اس بات کی علامت نہیں کہ رافیل کی عالمی مارکیٹ میں مانگ کم ہو گئی ہے۔
اب تک 500 سے زیادہ رافیل طیارے تیار اور فروخت ہو چکے ہیں جن میں 234 فرانس کی اپنی فضائیہ کے لیے اور 273 غیر ملکی خریداروں کے لیے ہیں۔
انڈیا اس کی بڑی مثال ہے جس نے پہلے 36 رافیل حاصل کیے اور اپریل 2025ء میں مزید 26 بحریہ کے لیے خریدنے کا معاہدہ کیا جبکہ مزید تقریباً 40 طیاروں کی بات چیت بھی جاری ہے۔
اس کے باوجود آسٹریلیا کے بعد کولمبیا میں بھی معاہدہ ہاتھ سے نکل جانا فرانس کے لیے ایک سفارتی اور دفاعی دھچکا ہے۔لاطینی امریکا میں فرانس کی دفاعی موجودگی محدود ہے اور اگر رافیل یہ معاہدہ جیت جاتا تو یہ خطے کی دیگر فضائیہ کے لیے ایک شوکیس بن سکتا تھا۔
2021 ءمیں آسٹریلیا کے ساتھ آبدوزوں کا اربوں ڈالر کا معاہدہ منسوخ ہونے کے بعد یہ دوسرا بڑا جھٹکا ہے جس نے پیرس کو اپنی پیشکشوں کے طریقہ کار پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ مستقبل میں فرانس مقامی صنعتی شراکت داری، آسان مالی شرائط اور طویل مدتی تربیت و دیکھ بھال کے پیکجز پر زیادہ توجہ دے سکتا ہے۔












