لاہور: (پاک ترک نیوز)ذرا رکیں اور یہ سوال اپنے آپ سے پوچھیں: اگر انسان دیکھے بغیر “دیکھ” سکے تو؟ اگر آپ آنکھیں بند کر کے بھی اپنے اردگرد کی دیواریں، راستے اور رکاوٹیں محسوس کر لیں تو؟
یہ کوئی فلمی کہانی نہیں، نہ ہی سائنس فکشن۔ سائنس کہتی ہے کہ انسان ایک چھٹی حس پیدا کر سکتا ہے اور وہ بھی صرف آواز کے ذریعے۔ قدرت میں چمگادڑ آواز سے دیکھتی ہیں، سانپ سونگھ کر سمت پہچانتے ہیں۔
لیکن اب تحقیق بتاتی ہے کہ انسان بھی دماغ کی زبردست صلاحیت، یعنی نیوروپلاسٹیسٹی neuroplasticity کی مدد سے یہ کمال سیکھ سکتا ہے۔
آئیے آپ کو مثال سے سمجھاتے ہیں۔ ایک ایسا شخص ہے جو بچپن میں بینائی سے محروم ہو گیا، مگر اس نے زبان سے مخصوص “کلک” کی آوازیں نکال کر اپنے اردگرد کی دنیا کو محسوس کرنا سیکھ لیا۔
یہ آوازیں دیواروں، درختوں اور چیزوں سے ٹکرا کر واپس آتیں اور اس کے دماغ میں تصویر بنا دیتیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ سائنسدانوں نے 10 ہفتوں کی ٹریننگ کے بعد یہ دیکھا کہ نہ صرف نابینا بلکہ بینا افراد کے دماغ میں بھی ویژول کارٹیکس متحرک ہو گیا۔ یعنی دماغ نے آواز کو “نظر” میں بدلنا شروع کر دیا۔
تحقیق کے مطابق ماہر افراد ایک میٹر دور موجود چیز کی معمولی سی حرکت بھی محسوس کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ چیز کی شکل — گول ہے یا چوکور — یہ تک جان لیتے ہیں۔سوچیں اگر یہ صلاحیت عام ہو جائے؟
اگر انسان اندھیرے، دھوئیں یا بند آنکھوں کے باوجود راستہ پہچان سکے؟ سائنسدان کہتے ہیں کہ مستقبل میں یہ ہنر عام تربیت کا حصہ بن سکتا ہے۔شاید آنے والے وقت میں ہمارے درمیان ایسے لوگ ہوں جو آواز سے دیکھتے ہوں۔ یہ کوئی جادو نہیں یہ انسان کے دماغ کی اصل طاقت ہے۔






