تہران ( پاک ترک نیوز)
امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ۔ ایک طرف واشنگٹن معاہدے کے لیے پُرامید دکھائی دیتا ہے، تو دوسری جانب تہران محتاط انداز میں مذاکرات کو آگے بڑھا رہا ہے۔ پاکستان، قطر اور خطے کی دیگر اہم قوتیں بھی پسِ پردہ سفارتی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ سوال یہی ہے کہ کیا اس بار واقعی کوئی بڑا امن معاہدہ ہونے جا رہا ہے یا یہ کوششیں بھی ماضی کی طرح تعطل کا شکار ہو جائیں گی؟
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں۔ 2015 میں جوہری معاہدہ ہوا، مگر بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو اس معاہدے سے الگ کر لیا، جس کے بعد پابندیاں، دھمکیاں اور خطے میں تناؤ مسلسل بڑھتا رہا۔ اب ایک مرتبہ پھر سفارتی دروازے کھلتے دکھائی دے رہے ہیں، لیکن اس بار مذاکرات صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں بلکہ جنگ بندی، علاقائی استحکام اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات بھی زیرِ بحث ہیں۔
حالیہ پیش رفت میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تہران پہنچنا اسی سلسلے کی اہم کڑی سمجھا جا رہا ہے۔ ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی نے ان کا استقبال کیا جبکہ ایرانی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتوں میں ایران امریکا مذاکرات، خطے کی سلامتی اور سفارتی امکانات پر گفتگو متوقع ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اعتراف کیا کہ واشنگٹن پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور مذاکراتی عمل میں اسلام آباد ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جا رہی ہے کیونکہ بیک وقت ایران، امریکا اور خلیجی ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات رکھنا آسان نہیں۔
قطر ماضی میں بھی امریکا اور طالبان، حماس اور اسرائیل سمیت کئی حساس مذاکرات میں ثالثی کرتا رہا ہے۔ اس بار بھی قطری وفد تہران میں موجود ہے اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے جاری ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ قطر جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے اور اعتماد سازی کے اقدامات پر پیش رفت چاہتا ہے۔
ایران بظاہر مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ ہے، مگر اس کے مؤقف میں سختی اب بھی موجود ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ انتہائی افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کرنا ناممکن ہے۔ مذاکرات کا محور فوری طور پر جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی ہے۔ جوہری پروگرام پر تفصیلی بات چیت ابھی مرکزی ایجنڈا نہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات اب بھی گہرے اور نمایاں ہیں۔
یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ تہران کسی فوری دباؤ میں مکمل سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں، بلکہ مرحلہ وار سفارت کاری چاہتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
امریکا یہ بھی جانتا ہے کہ مکمل تصادم عالمی معیشت، تیل کی سپلائی اور خطے کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اسی لیے سفارت کاری کا راستہ کھلا رکھا گیا ہے۔ فی الحال صورتحال “امید اور احتیاط” کے درمیان کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ چند اہم نکات اس کا تعین کریں گے:ایران کس حد تک اپنے جوہری پروگرام پر لچک دکھاتا ہے۔ امریکا پابندیوں میں کتنی نرمی پر تیار ہوتا ہے۔ ۔اسرائیل اور خلیجی ممالک اس ممکنہ معاہدے پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔ ۔پاکستان اور قطر کی ثالثی کتنی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
اگر کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے۔ عالمی تیل مارکیٹ مستحکم ہو سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر محفوظ تجارتی راستہ بن سکتی ہے۔ پاکستان کی سفارتی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔
لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو خطے میں دوبارہ عسکری کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ ۔تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔
لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو خطے میں دوبارہ عسکری کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ ۔تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس بار حالات ماضی سے مختلف ضرور ہیں کیونکہ امریکا، ایران، قطر اور پاکستان سب بیک وقت سفارتی راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ تاہم اعتماد کا فقدان اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایران فوری طور پر اپنے جوہری مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں جبکہ امریکا بھی سخت شرائط کے بغیر معاہدہ نہیں چاہتا۔ ایسے میں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ امن معاہدہ بالکل قریب ہے، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ خطہ ایک اہم سفارتی موڑ پر کھڑا ہے جہاں آنے والے چند ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی آئندہ سیاست کا رخ متعین کر سکتے ہیں۔












