Thursday , 23 July , 2026
  • Login
پاک ترک نیوز
  • Homepage
  • Latest
  • Pakistan
  • Turkey
  • World
  • game
  • Economy
  • Columns/Blogs
  • Technology
  • Education and health
No Result
View All Result
  • Homepage
  • Latest
  • Pakistan
  • Turkey
  • World
  • game
  • Economy
  • Columns/Blogs
  • Technology
  • Education and health
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home Latest

فیلڈ مارشل کی تہران موجودگی،بڑے بریک تھرو کا امکان

2 months ago
A A
Field Marshal's presence in Tehran, possibility of major breakthrough
Share on FacebookWhatsApp

تہران ( پاک ترک نیوز)
امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ۔ ایک طرف واشنگٹن معاہدے کے لیے پُرامید دکھائی دیتا ہے، تو دوسری جانب تہران محتاط انداز میں مذاکرات کو آگے بڑھا رہا ہے۔ پاکستان، قطر اور خطے کی دیگر اہم قوتیں بھی پسِ پردہ سفارتی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ سوال یہی ہے کہ کیا اس بار واقعی کوئی بڑا امن معاہدہ ہونے جا رہا ہے یا یہ کوششیں بھی ماضی کی طرح تعطل کا شکار ہو جائیں گی؟


ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں۔ 2015 میں جوہری معاہدہ ہوا، مگر بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو اس معاہدے سے الگ کر لیا، جس کے بعد پابندیاں، دھمکیاں اور خطے میں تناؤ مسلسل بڑھتا رہا۔ اب ایک مرتبہ پھر سفارتی دروازے کھلتے دکھائی دے رہے ہیں، لیکن اس بار مذاکرات صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں بلکہ جنگ بندی، علاقائی استحکام اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات بھی زیرِ بحث ہیں۔
حالیہ پیش رفت میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تہران پہنچنا اسی سلسلے کی اہم کڑی سمجھا جا رہا ہے۔ ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی نے ان کا استقبال کیا جبکہ ایرانی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتوں میں ایران امریکا مذاکرات، خطے کی سلامتی اور سفارتی امکانات پر گفتگو متوقع ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اعتراف کیا کہ واشنگٹن پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور مذاکراتی عمل میں اسلام آباد ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جا رہی ہے کیونکہ بیک وقت ایران، امریکا اور خلیجی ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات رکھنا آسان نہیں۔
قطر ماضی میں بھی امریکا اور طالبان، حماس اور اسرائیل سمیت کئی حساس مذاکرات میں ثالثی کرتا رہا ہے۔ اس بار بھی قطری وفد تہران میں موجود ہے اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے جاری ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ قطر جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے اور اعتماد سازی کے اقدامات پر پیش رفت چاہتا ہے۔


ایران بظاہر مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ ہے، مگر اس کے مؤقف میں سختی اب بھی موجود ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ انتہائی افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کرنا ناممکن ہے۔ مذاکرات کا محور فوری طور پر جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی ہے۔ جوہری پروگرام پر تفصیلی بات چیت ابھی مرکزی ایجنڈا نہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات اب بھی گہرے اور نمایاں ہیں۔
یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ تہران کسی فوری دباؤ میں مکمل سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں، بلکہ مرحلہ وار سفارت کاری چاہتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
امریکا یہ بھی جانتا ہے کہ مکمل تصادم عالمی معیشت، تیل کی سپلائی اور خطے کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اسی لیے سفارت کاری کا راستہ کھلا رکھا گیا ہے۔ فی الحال صورتحال “امید اور احتیاط” کے درمیان کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ چند اہم نکات اس کا تعین کریں گے:ایران کس حد تک اپنے جوہری پروگرام پر لچک دکھاتا ہے۔ امریکا پابندیوں میں کتنی نرمی پر تیار ہوتا ہے۔ ۔اسرائیل اور خلیجی ممالک اس ممکنہ معاہدے پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔ ۔پاکستان اور قطر کی ثالثی کتنی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
اگر کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے۔ عالمی تیل مارکیٹ مستحکم ہو سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر محفوظ تجارتی راستہ بن سکتی ہے۔ پاکستان کی سفارتی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔
لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو خطے میں دوبارہ عسکری کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ ۔تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔
لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو خطے میں دوبارہ عسکری کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ ۔تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس بار حالات ماضی سے مختلف ضرور ہیں کیونکہ امریکا، ایران، قطر اور پاکستان سب بیک وقت سفارتی راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ تاہم اعتماد کا فقدان اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایران فوری طور پر اپنے جوہری مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں جبکہ امریکا بھی سخت شرائط کے بغیر معاہدہ نہیں چاہتا۔ ایسے میں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ امن معاہدہ بالکل قریب ہے، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ خطہ ایک اہم سفارتی موڑ پر کھڑا ہے جہاں آنے والے چند ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی آئندہ سیاست کا رخ متعین کر سکتے ہیں۔

Tags: #fieldmarshalasimmunirusiran
ShareSend

Related Posts

US-Iran tensions; oil prices rise.
Latest

امریکہ ایران کشیدگی ،تیل کی قیمتوں میں اضافہ

16 July , 2026
The US will not send ground troops to Iran JD Vance.
Latest

امریکہ ایران میں زمینی فوج نہیں بھیجے گا،جے ڈی وینس

16 July , 2026
Trump threatens to destroy Iran's power plants and bridges if no deal is reached.
Latest

ٹرمپ کی معاہدہ نہ کرنے پر ایران کے بجلی گھر اور پل تباہ کرنے کی دھمکی

15 July , 2026
Strait of Hormuz will remain closed until US operations cease Revolutionary Guards
Latest

امریکی کارروائیاں ختم ہونے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی ، پاسداران انقلاب

15 July , 2026
US strikes Iran, new front in Strait of Hormuz war
Latest

امریکا کاایران پر کاری وار،آبنائے ہرمز جنگ کا نیا محاذ

14 July , 2026
US strikes Iranian military targets for the third consecutive night.
Most important

امریکا کے مسلسل تیسری رات ایرانی فوجی اہداف پر حملے

14 July , 2026
Next Post
New York Mayor Orders More Steps to Protect Immigrants

میئر نیویارک کا تارکین وطن کے تحفط کیلئے مزید اقدامات کرنے کا حکم

Read this too

In which country were the most millionaires created in 2025

2025میں سب سے زیادہ کروڑ پتی کس ملک میں بنے؟

23 July , 2026
Agreement between Pakistani and Chinese companies to set up electric vehicle charging stations.

پاکستان اور چین کی کمپنیوں میں الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کا معاہدہ

23 July , 2026
Increased use of artificial sweeteners is harmful to health...

روس کا 6ماہ میں ساڑھے 43 ٹن سونا فروخت

23 July , 2026
Increased use of artificial sweeteners is harmful to health

مصنوعی مٹھاس کا بڑھتا استعمال صحت کیلئے نقصان دہ

23 July , 2026
12th day of the Iran-US conflict Relentless attacks exchanged.

ایران ،امریکا جنگ کا 12واں روز ،ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے

23 July , 2026

About Us

"Pak Turk News is an unbiased Urdu news website committed to delivering timely and authentic reports, analyses, and feature articles on important news from Pakistan, Turkey, and around the world to its Urdu-speaking readers. We offer a new perspective on Pak-Turk relations, global politics, economy, culture, and social issues, enabling readers to stay informed, conscious, and influential.

  • Homepage
  • Pakistan
  • Latest
  • Turkish
  • World
  • About Us
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Declaration of non-attachment
  • Contact

Follow us on social media

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © All publishing rights reserved by Pak Turk News. Reproduction without permission is prohibited.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Homepage
  • Latest
  • Pakistan
  • Turkey
  • World
  • game
  • Economy
  • Columns/Blogs
  • Technology
  • Education and health

Copyright 2026 © All publishing rights reserved by Pak Turk News. Reproduction without permission is prohibited.

English
Urdu