تہران ( پاک تر ک نیوز) مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم شدت اختیار کر گیا ۔ امریکی فوج نے ایران کے مختلف علاقوں میں درجنوں اہداف پر میزائلوں، لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور پہلی بار سمندری ڈرونز کے ذریعے حملے کیے، جبکہ ایران نے بھی جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق کارروائی کے دوران ایران کے فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار سائٹس، میزائل لانچنگ صلاحیتوں، ڈرون انفراسٹرکچر اور تیز رفتار چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔
بوشہر، بندر عباس، قشم اور جاسک سمیت متعدد علاقوں میں زور دار دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جبکہ امریکی فوج نے بتایا کہ اس آپریشن میں لڑاکا طیاروں، بحری جنگی جہازوں، یکطرفہ حملہ آور ڈرونز اور تاریخ میں پہلی مرتبہ حملہ آور سمندری ڈرونز بھی استعمال کیے گئے۔
امریکی فوج نے دعویٰ کیا کہ ان کارروائیوں کا مقصد خطے میں بحری سلامتی کو یقینی بنانا اور بین الاقوامی جہاز رانی کے راستوں کا تحفظ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آذربائیجان کے مقابلے میں آرمینیا فضائی جنگ کیوں نہیں جیت سکتا؟
دوسری جانب ایرانی حکام کے مطابق صوبہ خوزستان کے شہر ماہشہر میں زرعی واٹر پمپنگ اسٹیشن پر امریکی میزائل حملے میں ایک سکیورٹی گارڈ جاں بحق جبکہ چار افراد زخمی ہو گئے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
امریکی حملوں کے بعد ایران نے بھی بھرپور جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اردن، بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی دعوے کے طابق اردن کی پرنس حسن ایئر بیس پر میزائل اسٹوریج اور فیول ٹینکس کو نشانہ بنایا گیا۔بحرین کی شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر امریکی ڈرون کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر پر حملہ کیا گیا۔کویت کی علی السالم ایئر بیس پر پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام اور فیول ذخائر کو تباہ کیا گیا۔
ایران کے مطابق احمد الجابر فوجی اڈے پر ایف پی ایس ریڈار سسٹم کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں امریکی فضائی دفاع، میزائل نظام، فوجی پناہ گاہوں اور معاون تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔
ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی کارروائیوں کو خطے کے امن کے لیے تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری تمام سفارتی کوششیں امریکی حملوں کے باعث ناکام ہو چکی ہیں۔
بیان میں الزام لگایا گیا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز کے معاملات میں براہِ راست مداخلت کی، جس کے نتیجے میں نہ صرف خطے میں عدم استحکام بڑھا بلکہ عالمی تجارتی جہاز رانی بھی متاثر ہوئی۔
ایران نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ عمان کے شہر مسقط میں ہونے والے مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز کے انتظام پر پیش رفت ممکن تھی، تاہم امریکا کے دباؤ کے باعث مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔
امریکا اور ایران کے درمیان یہ براہِ راست عسکری تصادم اب صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لیتا دکھائی دے رہا ہے۔
اگر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا یہی سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف خطے کا امن شدید خطرات سے دوچار ہوگا بلکہ عالمی معیشت، تیل کی رسد اور بین الاقوامی تجارت بھی ایک نئے بحران میں داخل ہو سکتی ہے۔












