اسلام آباد(پاک ترک نیوز ) وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ صدر اور وزیراعظم کریں گے، اس کے لیے آئین میں باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے۔
اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوتی جارہی ہے، آئے روز کے واقعات میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار اور شہری شہید ہو رہے ہیں۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ حکومت نے نہیں بلکہ عدالت نے رہائی کے احکامات دینے ہیں، اگر رہائی کی اپیلیں ہائی کورٹ میں لگتی ہیں تو متعلقہ افراد عدالت میں پیش نہیں ہوتے۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ رہائی کی اپیلوں پر عدالت جو فیصلہ کرے گی، حکومت اسے تسلیم کرے گی۔
بلوچستان کی صورتحال سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ بلوچستان حکومت وفاق پر چڑھائی نہیں کر رہی، اگر بلوچستان حکومت بھی وفاق پر چڑھائی کے منصوبے بنائے اور سکیورٹی فورسز کو تعاون فراہم نہ کرے تو وہاں بھی یہی صورتحال پیدا ہوگی۔
دوسری جانب وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے اسلام آباد بار کونسل اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے وفود نے بھی ملاقات کی۔
اسلام آباد بار کونسل کے وفد نے صدر علیم عباسی جبکہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے وفد نے چوہدری نعیم گجر کی سربراہی میں وفاقی وزیر قانون سے ملاقات کی۔
ملاقات میں بار اور وکلا برادری کو درپیش مسائل، قانونی پیشے، بارز کی سہولیات اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وکلا برادری عدالتی نظام اور انصاف کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، حکومت وکلا برادری کے مسائل کے حل اور قانونی شعبے کی بہتری کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وکلا اور بارز کے ساتھ مؤثر رابطہ قانونی و عدالتی نظام کی بہتری کے لیے ضروری ہے، بارز اور وکلا کی تجاویز کو قانونی و عدالتی اصلاحات کے عمل میں اہمیت دی جاتی ہے۔
وفاقی وزیر قانون نے وکلا برادری کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ فورمز پر ضروری اقدامات کی یقین دہانی بھی کرائی۔
ملاقات میں اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری قاسم عباسی، پاکستان بار کونسل کے راجہ رضوان عباسی اور پراسیکیوٹر جنرل منظور احمد ججہ بھی شریک تھے۔












