لاہور( پاک ترک نیوز) یورپ سے ایک ایسا فیصلہ جس نے لاکھوں زندگیاں بدلنے کی امید جگا دی۔۔اسپین نے تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کا اعلان کر دیا ۔
اسپین حکومت کے نئے منصوبے کے تحت تقریباً پانچ لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔یہ فیصلہ محض انسانی ہمدردی نہیں بلکہ ایک معاشی حکمت عملی بھی ہے، کیونکہ اسپین کو اس وقت لیبر کی شدید کمی کا سامنا ہے، خاص طور پر زراعت، تعمیرات، اور سروس سیکٹر میں۔
اس نئی پالیسی کے تحت وہ افراد جو طویل عرصے سے اسپین میں بغیر کاغذات کے مقیم ہیں، اب قانونی رہائش اور ملازمت کے مواقع حاصل کر سکیں گے۔ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف معیشت کو مضبوط کرے گا بلکہ غیر قانونی کام کے رجحان کو بھی کم کرے گا۔
اسپین میں قانونی شہریت کیلئے جو شرائط لگائی گئیں ان میں 31 دسمبر 2025 سے پہلے اسپین میں موجودگی ضروری ہو ،مستقل رہائش کا ثبوت دینا ہو گا،شہریت لینے والے کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہونا چاہیئے ،ڈیپورٹیشن یا انٹری بین نہ ہو ۔اسپین میں قانونی شہریت کے لیے پاسپورٹ ،کرایہ نامہ ،یوٹیلیٹی بلز ،بینک اور میڈیکل ریکارڈ دینا ہو گا ۔
معاشی ماہرین کے مطابق اس وقت سپین کو لیبر کی شارٹیج کا سامنا ہے ،زراعت ،کنسٹریکشن اور سروس سیکٹر بری طرح متاثر ہیں ،اگر یہ افراد قانونی نظام میں شامل ہو جائیں تو ٹیکس ریونیو بڑے گا،غیر قانونی لیبر ختم ہو گی ،معیشت کو فوری سہارا ملے گا۔
درخواست گزار آن لائن پورٹل، امیگریشن دفاتر یا مستند قانونی اداروں کے ذریعے اپلائی کر سکتے ہیں۔تاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ جعلی ایجنٹس اور فراڈ سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔
یہ پالیسی پاکستانیوں کے لیے کسی سنہری موقع سے کم نہیں،اب وہ قانونی طور پر کام کر سکیں گے ، ہیلتھ اور سوشل سیکیورٹی حاصل کریں گے مستقل رہائش کی راہ ہموار کر سکیں گے۔ قانونی شہریت کے درخواست مکمل اور درست ہونی چاہیئے ،صرف مستند ذرائع سے اپلائی کریں ،غیر قانونی ایجنٹس سے بچیں ۔
اسپین کا یہ فیصلہ نہ صرف ہزاروں خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتا ہے بلکہ پاکستانی کمیونٹی کے لیے ایک نئی شروعات کا دروازہ بھی کھول رہا ہےاب دیکھنا یہ ہے کہ کتنے لوگ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں






