ابوظہبی ( پاک ترک نیوز) متحدہ عرب امارات (یو اے ای ) کے دارالحکومت ابوظہبی میں واقع براکہ جوہری پاور پلانٹ پر مبینہ ڈرون حملے کے بعد آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی اور توانائی کے شعبے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
حملے کے فوری بعد پلانٹ کے ایک محدود حصے میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم حکام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پا لیا۔ واقعے میں کسی جانی نقصان یا تابکاری کے اخراج کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، جبکہ پلانٹ کے اہم جوہری نظام محفوظ رہے۔
اماراتی حکام کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور فائر بریگیڈ نے فوری طور پر جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر امدادی سرگرمیاں شروع کیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملے کا ہدف پلانٹ کے معاون انفراسٹرکچر کا ایک حصہ تھا، جہاں محدود پیمانے پر نقصان پہنچا۔ ابتدائی تحقیقات میں اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا ڈرون بیرونی حدود سے داخل ہوا یا اندرونی تکنیکی خامیوں کے باعث حادثہ پیش آیا۔ سیکیورٹی اداروں نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
براکہ جوہری پاور پلانٹ یو اے ای کا پہلا جوہری توانائی منصوبہ ہے، جو ملک کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہ منصوبہ ابوظہبی کے مغربی ساحلی علاقے میں قائم کیا گیا ہے اور اس کے ذریعے ملک میں بجلی کی پیداوار کے ساتھ ساتھ روایتی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ توانائی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے حساس تنصیبات پر حملے خطے میں سیکیورٹی خطرات کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔
واقعے کے بعد اماراتی حکومت نے ملک بھر میں اہم تنصیبات کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ہوائی نگرانی کے نظام کو فعال کر دیا گیا ہے جبکہ حساس مقامات کے اطراف اضافی دفاعی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق فضائی نگرانی کے جدید نظام کے ذریعے مشکوک سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت روکا جا سکے۔
علاقائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں توانائی تنصیبات اور اسٹریٹجک مقامات کو بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال نے سیکیورٹی چیلنجز کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے کے کئی ممالک حساس تنصیبات کے تحفظ کے لیے نئے دفاعی نظام متعارف کرا رہے ہیں۔
حکام نے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ براکہ پلانٹ مکمل طور پر محفوظ ہے اور کسی قسم کی تابکاری یا ماحولیاتی خطرے کا اندیشہ نہیں۔ ماہرین کی ٹیمیں پلانٹ کے تمام نظاموں کا تفصیلی معائنہ کر رہی ہیں جبکہ آپریشنل سرگرمیاں معمول کے مطابق بحال رکھنے کی کوشش جاری ہے۔ حکومتی عہدیداروں نے کہا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعے کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی جائیں گی۔











