
از: سہیل شہریار
زیر تعمیر دیامر بھاشا ڈیم کے پن بجلی منصوبےکی تعمیر کے سب سے اہم مرحلے ڈیم میں کنکریٹ کی بھرائی (آر سی سی)کا کام اس سال شروع ہو جائے گا۔جس کے لئے تمام پیشگی ضروریات اب تیزی سے تکمیل کی طرف بڑھ رہی ہیں۔
واپڈا کی جانب سے وزیر اعظم پاکستان کے دفتر کو فراہم کی جانے والی معلومات کے مطابق ملک میںپانی اور پن بجلی کے اہم منصوبے پر تعمیراتی کام تسلی بخش انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔اس سلسلے میں واپڈا کی جانب سے منصوبے کے مشیر اداروں اور کنٹریکٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے شیڈول کے مطابق منصوبےکی تکمیل کے لیے تعمیراتی کام کو تیز کرتے ہوئے عمل درآمد کریں ۔
واپڈا کی رپورٹ کے مطابق چلاس سے 40کلومیٹر نیچے دریائے سندھ پر تعمیر کئے جارہے دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے اس وقت پاور انٹیک، ڈیم پٹ، ڈاؤن اسٹریم کوفر ڈیم، لیفٹ ابٹمنٹ، فلشنگ ٹنل اور گائیڈ وال سمیت 20 ورک سائٹس پر تعمیراتی کام جاری ہے۔ جن میں بائیں ابٹمنٹ اور ڈیم کی بنیادوں پر کھدائی کا کام کافی حد تک مکمل ہو چکا ہے۔ساتھ ہی مرکزی ڈیم کے لیے آر سی سی ٹرائلز بھی کامیابی سے کیے گئے ہیں۔ دائیں ابٹمنٹ کی کھدائی مکمل ہونے کے ساتھ مین ڈیم کے لیے آر سی سی لگانے کا کام رواں سال کے دوران شروع ہو جائے گا۔ توقع ہے کہ ڈیم کی تعمیرکا کام 2030 میں طے شدہ شیڈول کے مطابق مکمل ہو جائے گا۔
دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کے پانی، خوراک اور توانائی کے تحفظ کے لیے ایک اہم منصوبہ ہے۔ یہ ملک میں 1.2 ملین ایکڑ اضافی اراضی کو سیراب کرنے کے لیے 8.1 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرے گا۔ جبکہ 4500 میگاواٹ کی نصب شدہ پیداواری صلاحیت کے ساتھ دیامر بھاشا ڈیم کا پن بجلی گھر ہر سال نیشنل گرڈ کو 18 ارب یونٹ کم لاگت اور ماحول دوست بجلی فراہم کرے گا۔
واپڈاکی رپورٹ کے مطابق 4500 میگاواٹ دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ( ڈی بی ڈی پی) کی لاگت کا تخمینہ تقریباً 10 ارب امریکی ڈالر ہے۔اور واپڈا نے وزیر اعظم آفس (پی ایم او) کی جانب سے جاری کردہہدایات کے جواب میں نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (این جی سی) اور پاور ڈویژن کو فوری طور پر ڈی بی ڈی پی کے لیے بجلی کی ترسیل کے منصوبے کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جب کہ پاور ڈویژن کو وزارت خزانہ اور اقتصادی امور ڈویژن (ای اے ڈی) کو منسلک کرنے کا کام بھی سونپا گیا ہے تاکہ متعلقہ ٹرانسمیشن کے لیے مالی اعانت کا انتظام کیا جائے۔
اس تناظر میں، واپڈا نے پہلے ہی پراجیکٹ کے پاور جنریشن یونٹس کے کمرشل آپریشن کی طے شدہ ٹائم لائنز انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (ISMO) کو بتا دی ہیں۔ شیڈول کے مطابق، 12 پیداواری یونٹس کی کمیشننگ مرحلہ وار ہو گی۔ جن میںپہلا یونٹ اکتوبر 2032سے پیداوار شروع کرے گا۔اور تین سال کے عرصے میں تمام 12یونٹس پیداوار شروع کر دیں گے جن میں آخری یونٹ اپریل 2035میں پن بجلی کی پیداوارشروع کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق ڈی بی ڈی پی منصوبے کی پانی اور توانائی کے تحفظ کے لیے تزویراتی اہمیت کے باوجود 10ارب ڈالر کی درکار فنانسنگ کے حصول میں مشکلات کا سامنا تھا۔ جس پر وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں فنڈنگ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیےمنصوبہ بندی و ترقیات کی وزارت پی ایس ڈی پی کے ذریعے مناسب اور بروقت فنڈز کے اجراء کو یقینی بنائے۔ مزید برآں اس فیصلے پر فوری عمل درآمد کے ساتھ دیامر بھاشا کے لیے مالیاتی فرق کو پر کرنے کی غرض سے اگلے سات سالوں میں50کروڑ امریکی ڈالر سالانہ کی تجارتی فنانسنگ کا انتظام کیا جائے گا۔
یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ڈی بی ڈی پی کے نظرثانی شدہ PC-I کی پروسیسنگ جس میں ڈیم کا احاطہ کیا جائے گا، نیز زمین کے حصول اور آباد کاری کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا اور 31 دسمبر 2025 تک مکمل کیا جائے گا۔ منصوبے کے لیے اراضی کا حصول 2010 میں شروع ہوا تھا، جب کہ تقریباً 9,270 کنال اراضی واگزار کرائی جا چکی ہے۔ جلد از جلد مکمل کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق تجارتی مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے، کثیر جہتی اور دو طرفہ ذرائع، بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس، اور خودمختار دولت کے فنڈز سے رعایتی طویل مدتی فنڈز کے حصول کو ترجیح دی جائے گی۔ جس میں وزارت خزانہ اور EAD اس عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔












