لاہور( پاک ترک نیوز) لاہور سمیت پنجاب کے رہائشی علاقوں اور گھروں میں قائم غیر قانونی صنعتی یونٹس ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا ،سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب کی زیرصدارت انسداد سموگ کے بارے میں اجلاس ہوا جس میں سینئر وزیر نے رہائشی علاقوں میں قائم غیر قانونی صنعتی یونٹس کے خلاف فوری کریک ڈاون کا حکم دے دیا ۔
مریم اورنگزیب نے کہا رہائشی علاقوں میں قائم غیر قانونی صنعتیں ماحولیاتی آلودگی کا بڑا سبب ہیں.وزیر اعلی پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر غیرقانونی فیٹ میلٹنگ یونٹس کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا۔
مریم اورنگزیب نے کہا رہائشی علاقوں میں منظور شدہ اربن انڈسٹریز کو سپیشلائزڈ زونز میں منتقل کیا جائے گا۔گھروں میں قائم غیر قانونی انڈسٹری کیخلاف فوری آپریشن، مقررہ ٹائم لائن میں مکمل کیا جائے گا۔رہائشی علاقوں میں قائم غیر قانونی انڈسٹری کیلئے جاری تمام این او سیز فوری منسوخ کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے
لاہور سمیت پنجاب کے رہائشی علاقوں اور گھروں میں قائم صنعتوں کی مرحلہ وار منتقلی کے لیے جامع منصوبہ تیار کر لیا گیا۔ رہائشی علاقوں گھروں میں صنعتی یونٹس کے قیام کیلئے این او سی جاری کرنے والے افسران کیخلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی
مریم اورنگزیب نے کہا تار اور پلاسٹک جلانے والی غیر قانونی صنعتیں شہری فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔
پلاسٹک جلنے سے خارج ہونے والی گیسز گلے پھیپھڑوں اور سانس کی بیماریوں اور سرطان کا سبب بن سکتی ہیں۔ چربی پگھلانے اور نکالنے والے یونٹس شہری ماحول کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ ماربل کٹنگ، لکڑی کا کام اور دیگر چھوٹی صنعتیں بھی گردوغبار اور آلودگی کا باعث بن رہی ہیں
سینئر وزیر پنجاب نے مزید کہا فضائی آلودگی آلودگی شہری ماحول، صحت عامہ اور معیار زندگی پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ صنعتوں کی منتقلی سے فضائی آلودگی میں کمی، پانی کے معیار میں بہتری اور پائیدار صنعتی ترقی ممکن ہوگی۔ صنعتی منتقلی منصوبے کے لیے صنعتوں کی نقشہ سازی، ماحولیاتی جائزہ اور آبادی کے تجزیے پر مبنی سائنسی طریقہ اختیار کیا گیا۔
پنجاب کی سینئر وزیر نے کہا 50 سے زائد اسٹیک ہولڈرز کو مشاورتی عمل میں شامل کیا گیا۔ صنعتی منتقلی سے متعلق 14 مشاورتی اجلاس منعقد کیے گئے۔ صنعتی منتقلی کے عمل کا آغاز خصوصی کمیٹیوں کی تشکیل اور نوٹیفکیشن سے کیا گیا۔ لاہور میں مجموعی طور پر 5,206 غیر قانونی صنعتوں کی نشاندہی اور نقشہ سازی مکمل کر لی گئی۔ ان میں سے 4,514 غیر قانونی صنعتیں رہائشی حدود میں واقع ہیں۔












