
از : سہیل شہریار
دوحہ میں ہونے والے اسلامی اور عرب ملکوں کے مشترکہ ہنگامی اجلاس کے بعد اہم اسلامی اور عرب ملکوں کے درمیان دوحہ حملے جیسی وارداتوں کو دیگر اسلامی میں بھی دہرانے کی سرائیلی دھمکیوں کے تناظر میں باہمی مشاورت کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔
قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اردن کے بادشاہ سے بات چیت کے لیے عمان کا دورہ کر رہے ہیں۔قطری رہنما بدھ کو اردن کے دارالحکومت پہنچے جہاں ان کا استقبال شاہ عبداللہ دوم، ولی عہد حسین عبداللہ اور اردن کے اعلیٰ حکام نے کیا۔دوسری طرف پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف بھی اہم مشاورت کے لئے سعودی دارالحکومت ریاض پہنچ چکے ہیں۔ جہاں سے وہ برطانیہ کے سرکاری دورے پر روانہ ہونگے۔
اس سے قبل خلیج تعاون کونسل نے پیر کے روز ہونے والے ہنگامی سربراہی اجلاس میں جہاں اسرائیل کے مزموم حملے کی مذمت کی وہیں اپنے "مشترکہ دفاعی طریقہ کار کو فعال” کرنے کا عہد کیا تھا۔جسے اس اجلاس کا سب سےاہم اور قابل عمل نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=e3Ogy4o28-w
قطر کے امیر مشترکہ عرب دفاعی انتظام کو فعال بنانے کےلئے سعودی عرب ، مصر،متحدہ عرب امارات ، عمان، کویت اور جی سی سی کے دیگر رکن ممالک سے بھی مشاورت کریں گے۔
اسی دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو گذشتہ روز تل ابیب میں اسرائیلیوں خصوصاً نیتن یاہو کو دوحہ حملے پر شاباش دینے کے بعد عربوں دوستوں کی اشک شوئی کے لئے قطر پہنچے تو انکا کہنا تھا کہ قطر وہ واحد ملک ہے جو غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کر سکتا ہے۔ اور اس انتباہ کے فوراً بعد انہوں نے یہ بھی بتا دیا کہ جنگ بندی ممکن بنانے کے لیے صرف ایک "چھوٹی کھڑکی ” کھلی ہوئی باقی ہے۔ ہمارے پاس مزید مہینے نہیں ہیں۔بلکہ شاید کچھ دن یا شاید چند ہفتے باقی ہیں۔کیونکہ اسرائیل نے غزہ شہر پر اپنی بمباری تیز کر دی ہے۔ جس سے شہری مرکز میں درجنوں افراد ہلاک اور متعدد رہائشی عمارتوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ اور اب وہ محصور علاقے پر قبضہ کرنے کے زمینی منصوبے کو آگے بڑھا رہا ہے۔
دریں اثنا سعودی ولی عہد کی دعوت پر وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف وفد کے ہمراہ ریاض پہنچ چکے ہیں۔جہاں وہ شہزادہ محمد بن سلمان سے دوطرفہ ملاقات کریں گے جس میں پاکستان سعودی عرب کے تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ دونوں رہنما باہمی دلچسپی کی علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو باضابطہ شکل ملے گی جو دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید بڑھانے اور گہرا کرنے کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
شہباز شریف ریاض میں قیام کے بعد برطانیہ روانہ ہوں گے جہاں وہ برطانوی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے اور اہم امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔اور وہاں سے وہ شریف نیویارک جائیں گے جہاں وہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔












