ریاض ( پاک ترک نیوز) ریاض: سعودی عرب کو درپیش سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم تزویراتی، سیاسی و دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ریاض میں ہوا، جس میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود کی مکہ دفاعی اتحاد کے پہلے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے نامزدگی کی بھی توثیق کی گئی۔
اجلاس کے دوران مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں اور سعودی عرب کے خلاف جاری حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔تینوں ممالک کے نمائندوں نے خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مملکت کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ہنگامی اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں اہم فیصلہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ اجتماعی دفاع سے متعلق وعدوں پر فوری طور پر عملی اقدامات شروع کیے جائیں گے۔
اعلامیے کے مطابق مشترکہ عسکری افواج اور مطلوبہ دفاعی صلاحیتیں فراہم کرکے انہیں سعودی عرب میں تیزی سے تعینات کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے اتحاد اور مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس سے قبل سیاسی اور عسکری سطح پر ہونے والی مشاورت کے نتائج کا جائزہ لیا گیا اور پیش کردہ سفارشات کی منظوری دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: حوثیوں کا ریاض کے ایئرپورٹ اور آرامکو ریفائنری کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد اجتماعی دفاع اور مشترکہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے پختہ عزم کی علامت ہے، جبکہ مشترکہ دفاعی اقدامات منظور شدہ طریقہ کار اور تینوں ممالک کے قومی قوانین کے مطابق کیے جائیں گے۔ترجمان کے مطابق ان اقدامات سے تینوں ممالک کے درمیان عسکری تیاری، دفاعی انضمام اور خطرات کا مقابلہ کرنے کی اجتماعی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ معاہدے کے تحت ہر فریق کی سلامتی تینوں ممالک کی اجتماعی سلامتی کا اٹوٹ حصہ ہے، جبکہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو عملی اقدامات میں ڈھالنا اجتماعی دفاع کے عزم کا عملی ثبوت ہے۔












