بیجنگ : (پاک ترک نیوز)چین نے ایک مرتبہ پھر تعمیرات میں تاریخ رقم کی ہے اور تین شن شنگلی ٹنل کے ذریعے 22.13 کلومیٹر طویل ہائی وے ٹنل مکمل کیا ہے، جو دنیا کا سب سے طویل فعال ہائی وے ٹنل بن گیا ہے۔
یہ ٹنل شمالی اور جنوبی سنکیانگ کو اُرمچی–یولی ایکسپریس وے پر جوڑتا ہے۔ڈرائیور اب پہاڑی راستوں پر گھنٹوں گزارنے کی بجائے تقریباً 20 منٹ میں سفر مکمل کر سکیں گے۔
ٹنل میں دو الگ ٹیوبیں ہیں، ہر ایک میں دو لینز، اور درمیان میں کراس پاسجز و ایمرجنسی راستے موجود ہیں۔ جدید وینٹیلیشن اور سینسر سسٹمز ہر لمحے ٹمپریچر، ٹریفک اور خطرات کی نگرانی کریں گے۔
تین شن کی مشکل جغرافیائی صورتحال میں تعمیر کے دوران جدید روبوٹک آلات، ٹنل بورنگ مشینیں اور مشین لرننگ ماڈلز استعمال کیے گئے تاکہ پتھر کے دھنسنے اور زمینی مشکلات سے بچا جا سکے۔
یہ ٹنل شمالی و جنوبی سنکیانگ کے درمیان سفر کے وقت کو کم کر کے صحت، تعلیم، کاروبار اور ترسیل میں انقلاب لے آئے گا۔ ٹرکروں، طبی عملے اور طلبہ کے لیے یہ زندگی آسان بنائے گا۔
یہ منصوبہ نہ صرف داخلی نقل و حمل کے لیے اہم ہے بلکہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں سنکیانگ کو مرکزی راستے سے جوڑ کر عالمی تجارتی اور اقتصادی مواقع کو بھی فروغ دیتا ہے۔
مستقبل میں دنیا کے دیگر پہاڑی ممالک بھی چین کے اس ٹنل کی تکنیکی مہارت، سینسر نیٹ ورک اور کنٹرول سسٹمز کو اپنا کر طویل فاصلے کے ہائی وے ٹنلز تعمیر کر سکتے ہیں۔












