بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چین اور پاکستان کی دوستی کو دنیا ہمیشہ “آہنی تعلقات” کے نام سے جانتی رہی ہے، لیکن اب اس رشتے سے متعلق ایک ایسا بیان سامنے آیا ہے جس نے عالمی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
معروف چینی تجزیہ کار وکٹر گاؤ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں پاکستان کے کردار کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور چین کو قریب لانے میں تاریخی کردار ادا کیا، جس نے عالمی سیاست کا رخ بدل دیا۔
وکٹر گاؤ کے مطابق آج بھی پاکستان خطے میں ایک اہم سفارتی پل کا کردار ادا کر رہا ہے، خصوصاً امریکا اور ایران جیسے حساس معاملات میں۔
انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے تعلقات اعتماد، برابری اور باہمی احترام پر قائم ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین اور پاکستان کی شراکت داری دنیا کے کسی بھی دو ممالک کے تعلقات سے زیادہ مضبوط ہے۔ یہ تعلق صرف زمینی تعاون تک محدود نہیں بلکہ اب خلائی شعبے تک بھی پھیل چکا ہے۔
اپنے انٹرویو میں وکٹر گاؤ نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے مستقبل پر بھی اہم گفتگو کی۔ ان کے مطابق دنیا تیزی سے اے آئی کے نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں چین کھلے نظام کے ذریعے ٹیکنالوجی کو فروغ دے رہا ہے جبکہ امریکا اسے محدود دائرے میں رکھنا چاہتا ہے۔
انہوں نے سی پیک کو دنیا کے اہم ترین منصوبوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے پاکستان کو دنیا کی بڑی معیشتوں کے ساتھ براہ راست جڑنے کا موقع مل رہا ہے۔
آخر میں وکٹر گاؤ نے پیش گوئی کی کہ آنے والے برسوں میں عالمی طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے، اور چین و پاکستان کی شراکت داری ایک نئے عالمی نظام کی بنیاد بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ تعلق صرف دوستی نہیں بلکہ مستقبل کی عالمی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے












