بیجنگ : (پاک ترک نیوز)جب امریکا ، ایران کے گرد پابندیوں کی دیواریں کھڑی کرنے میں مصروف ہے، تب چین خاموشی سے ایسے پل بنا رہا ہے جو فولاد یا کنکریٹ کے نہیں، بلکہ تیل، ٹیکنالوجی اور ہوشیار سفارتکاری کے ہیں۔
یہ پل اتنے مضبوط ہیں کہ عالمی معاشی محاصرہ بھی انہیں توڑ نہیں پا رہا۔آج ہم آپ کو بتائیں گے وہ پانچ خفیہ راستے جن کے ذریعے چین ایران کو سہارا دے رہا ہے، بغیر ایک گولی چلائے، بغیر فوج بھیجے، مگر عالمی طاقت کے توازن کو بدلتے ہوئے۔
پہلا اور سب سے بڑا سہارا: تیل
ایران کی معیشت کی شہ رگ تیل ہے اور امریکا کی حکمت عملی تھی کہ تیل بند، معیشت ختم۔ لیکن چین، جو دنیا کا سب سے بڑا تیل خریدار ہے، اس کھیل میں خاموشی سے انٹری مار چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران کا تقریباً سارا تیل چین خرید رہا ہے، وہ بھی پابندیوں کو چکمہ دے کر۔
دوسرا سہارا 25 سالہ اسٹریٹجک معاہدہ
400 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان، ریلویز، بندرگاہیں، تیل و گیس، سب کچھ بیلٹ اینڈ روڈ کے نیچے۔ اگرچہ رفتار سست ہے، مگر پیغام واضح ہے: چین ایران کو اکیلا نہیں چھوڑے گا۔
تیسرا محاذ سفارتکاری
ایران اور سعودی عرب میں صلح؟ وہ بھی بیجنگ میں۔ چین نے وہ کر دکھایا جو امریکا دہائیوں میں نہ کر سکا، اور ایران عالمی تنہائی سے نکل آیا۔
چوتھا سہارا شنگھائی تعاون تنظیم
2023 ء میں ایران کی شمولیت نے اسے چین اور روس کے بلاک میں مضبوط جگہ دے دی۔ مشترکہ سیکیورٹی مشقیں، انٹیلیجنس تعاون، اور عالمی پیغام: ایران اب اکیلا نہیں۔
پانچواں اور سب سے حساس سہارا ٹیکنالوجی
چین براہِ راست ہتھیار نہیں دیتا، مگر وہ پرزے دیتا ہے جن سے ہتھیار بنتے ہیں۔ ڈرونز، میزائل، الیکٹرانکس۔۔۔ سب کچھ خاموشی سے۔ یہ پانچ پل مل کر ایک نیا عالمی نظام تشکیل دے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے۔












