پشاور(پاک ترک نیوز )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاق نے پولیس کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا تو صوبائی حکومت اقدامات کرے گی، دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پولیس کی توجہ کسی سیاسی جماعت کی طرف موڑنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پولیس کو غلط احکامات ماننے سے انکار کرنا سیکھنا ہوگا، کسی پولیس افسر کا فرض نہیں کہ وہ کسی کا غلط حکم مانے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس اور عوام 22 سال سے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں، امن کے بغیر صوبے میں ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں۔
سہیل آفریدی کے مطابق گزشتہ سال پولیس کو بجٹ سے ہٹ کر 35 ارب روپے اضافی دیے گئے، جبکہ رواں مالی سال پولیس کا بجٹ تقریباً 81 ارب سے بڑھا کر 190 ارب روپے کردیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے اے پی سیز، جیمرز اور انسدادِ ڈرون آلات کی فراہمی میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور متعلقہ اداروں سے آلات فوری فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے بجائے تحریک انصاف کو ختم کرنا اور عمران خان کو جھکانا ترجیح بن گیا ہے، تاہم صوبائی حکومت کی ترجیح سیاسی جماعت نہیں بلکہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے پولیس ایکٹ کی منظوری دے دی ہے، اسمبلی میں مزید ترامیم بھی کی جاسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت مسلح جدوجہد یا یلغار نہیں بلکہ پرامن احتجاج کرنے جارہی ہے، آئین میں حقِ اجتماع موجود ہے تو احتجاج بھی جاری رہے گا۔
بعدازاں تقریب سے خطاب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ سال خیبرپختونخوا کی ترقی اور خوشحالی کا سال ہوگا، اپنے حقوق کے لیے خود کھڑا ہونا ہوگا۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’’گورنر راج کی دھمکی دی جاتی ہے، لگا کر دیکھو، اس بار ٹی ٹوئنٹی نہیں ٹیسٹ میچ کھیلیں گے‘‘، تاہم انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ جدوجہد پرامن ہونی چاہیے اور ’’ایک گملا بھی نہیں توڑنا‘‘۔












