لاہور( پاک ترک نیوز) غیر ملکی خاتون اسٹرڈ گیبریلا روبنسن کا مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کروائے گئے بیان حلفی کا کچھ حصہ منظر عام آ گیا ،خاتون نے بیان میں کہا میری عمر 40 چالیس ہے سپین کے شہر ہنڈاس دی لاس کی رہائشی ہوں ۔حلف لیکر اپنا بیان ریکارڈ کروا رہی ہوں ۔
غیر ملکی خاتون نے کہا میری کہانی ویسی ہی ہے جیسے سٹیفنی نے بتایا،اس گھر میں قیام کے دوران میرا تجربہ مختلف تھا ،
پہلی رات چار لوگ اسلحہ کے ساتھ آئے اور ہمیں باندھ دیا ،انہوں نے میرے چہرے پر متعدد بار گھونسے مارے۔
غیر ملکی خاتون اسٹرڈ گیبریلا روبنسن کے بیان کے مطابق رضا ڈار آیا اور اس نے مجھے سے کمپوٹر اور پیسوں کے بارے میں مجھے سے پوچھا،میں نے بتایا دونوں چیزیں سبز بیگ میں پڑی ہوئی ہیں ،اس دوران سٹیفنی کو واپس لایا گیا ہم دونوں سے پاسورڈ اور کمپیوٹر کے بارے میں پوچھتے رہے
غیر ملکی خاتون نے بیان دیا انہوں نے میرے سر پر بہت زور سے پسٹل کا بٹ مارا، وہاں ایک شخص اور موجود تھا جو بہت اچھی انگلش بول رہا تھا۔میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تم لوگ ہمیں مار دو گے ،اس نے کہا کہ اگر تم نے ہمیں پیسے نا دیے تو زندہ نہیں جاؤ گے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں غیر ملکی خواتین کا اغوا اور زیادتی،6ملزموں کا جسمانی ریمانڈ
غیر ملکی خاتون کے مطابق ایک بڑی عمر کا شخص رائفل کے ساتھ تھا اس نے دو لوگوں کو میرے پاس رکنے کا کہا،
وہ صرف اردو بول رہے تھے ،اور زور زور سے ہنس رہے تھے ،میں روتی رہی ،انہوں نے مجھے تھپڑ مارے اور منہ بند کرنے کا کہا۔












