اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی نے عالمی توانائی مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔برطانوی برینٹ کروڈ آئل کی قیمت بڑھ کر 85 اعشاریہ 01 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی کروڈ آئل 79 اعشاریہ 80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل مہنگا ہونے کے بعد پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 40 روپے فی لیٹر جبکہ پٹرول کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر تک اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ پٹرول ،ڈیزل مہنگا ہونے کے اثرات صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مہنگائی کی ایک نئی لہر پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
سب سے پہلے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھیں گے، جس کے بعد شہروں سے دیہات اور دیہات سے شہروں تک سامان کی ترسیل مزید مہنگی ہو جائے گی۔
ٹرکوں، بسوں، ویگنوں اور مال بردار گاڑیوں کے کرائے بڑھنے سے سبزی، پھل، آٹا، چینی، گھی، دالیں، گوشت اور دیگر اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا۔
ڈیزل مہنگا ہونے سے زرعی شعبہ بھی متاثر ہوگا، کیونکہ ٹیوب ویل، ٹریکٹر، ہارویسٹر اور دیگر زرعی مشینری بڑی حد تک ڈیزل پر چلتی ہے، جس سے فصلوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ادھر صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھنے سے سیمنٹ، سریا، ٹیکسٹائل، پلاسٹک، کھاد اور دیگر مصنوعات بھی مہنگی ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی کوریا کا ایٹمی توانائی سے چلنے والے مال بردار بحری جہاز کا منصوبہ
پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کی صورت میں عوامی اور نجی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا بھی امکان ہے، جس کا براہ راست بوجھ روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں شہریوں پر پڑے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھتی رہیں اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو پاکستان کے درآمدی بل، تجارتی خسارے اور مہنگائی پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
پاکستان اپنی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی ملکی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب کرتا ہے۔












