سیئول (پاک ترک نیوز) جنوبی کوریا کے سائنس دانوں اور ایک بڑی جہاز ساز کمپنی نے پگھلے ہوئے نمک پر مبنی ایٹمی ری ایکٹر سے چلنے والے جدید مال بردار بحری جہاز کے منصوبے میں اہم کامیابی حاصل کر لی ہے۔ عالمی بحری معیار کی نگرانی کرنے والے امریکی ادارے نے اس منصوبے کے بنیادی ڈیزائن کو اصولی منظوری دے دی ہے۔
یہ منصوبہ جنوبی کوریا کے ایٹمی توانائی کے تحقیقی ادارے، بحری تحقیق کے ادارے اور جہاز ساز کمپنی کے اشتراک سے تیار کیا جا رہا ہے۔ مجوزہ بحری جہاز پندرہ ہزار کنٹینر لے جانے کی صلاحیت رکھے گا۔
اس منصوبے میں دو چھوٹے ایٹمی ری ایکٹر استعمال کیے جائیں گے، جو پگھلے ہوئے نمک کی جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس نظام میں اگر کسی وجہ سے ایٹمی عمل رک جائے تو پگھلا ہوا نمک فوراً جم کر ایٹمی مادے کو اپنے اندر محفوظ کر لیتا ہے، جس سے حادثے کے امکانات بہت کم ہو جاتے ہیں۔
تحقیقاتی ٹیم نے نہ صرف سمندری استعمال کے لیے ایٹمی ری ایکٹر تیار کیا بلکہ بحری جہاز کے ڈھانچے، ری ایکٹروں کی جگہ، بجلی کی فراہمی، نگرانی اور کنٹرول کے نظام بھی تیار کیے۔
منصوبے کے مطابق دونوں ایٹمی ری ایکٹر بحری جہاز کے درمیانی حصے میں نصب کیے جائیں گے تاکہ سمندری لہروں اور ممکنہ تصادم کے اثرات کم سے کم رہیں۔ بحری جہاز کی رفتار تقریباً چھیالیس کلو میٹر فی گھنٹہ ہوگی اور اسے پاناما نہر کے نئے اور بڑے آبی راستے سے گزرنے کے قابل بنایا گیا ہے۔
ایٹمی توانائی کے استعمال کی وجہ سے بحری جہاز میں روایتی ایندھن کے بڑے ذخیرہ خانے اور دھواں خارج کرنے والی چمنی کی ضرورت نہیں ہوگی، جس سے زیادہ جگہ دستیاب ہوگی اور کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔ عملے کی رہائش گاہوں کو بھی اس انداز سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ تابکاری سے محفوظ رہیں اور جہاز کی رہنمائی کے لیے واضح منظر بھی برقرار رہے۔
امریکی بحری معیار کے ادارے نے منصوبے کے تکنیکی اور حفاظتی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد اسے اصولی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سمندری شعبے میں ایٹمی توانائی کے محفوظ استعمال کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
منصوبے کے سربراہ نے اس کامیابی کو ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنوبی کوریا کے مستقبل کی جدید ٹیکنالوجی کے قومی پروگرام کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:29برس بعد روس کا سب سے طاقتور جنگی بحری جہاز دوبارہ ہوم بیس پہنچ گیا
تحقیقاتی ٹیم کے مطابق اگلے مرحلے میں ایٹمی ری ایکٹر اور بحری جہاز کے نظام کے درمیان ہم آہنگی کو مزید بہتر بنایا جائے گا، حفاظتی جانچ مکمل کی جائے گی اور بنیادی ٹیکنالوجی کی آزمائش کے بعد ایٹمی توانائی سے چلنے والے اس مال بردار بحری جہاز کی عملی تیاری کا آغاز کیا جائے گا












