لندن(پاک ترک نیوز ) برطانیہ کے شاہ چارلس سوم اور ملکہ کامیلا نے فیصلہ کیا ہے کہ 369 ملین پاؤنڈ کی لاگت سے جاری تزئین و آرائش مکمل ہونے کے باوجود وہ بکنگھم پیلس میں مستقل رہائش اختیار نہیں کریں گے بلکہ ان کی سرکاری رہائش گاہ کلیرنس ہاؤس ہی رہے گی۔
شاہی مالیاتی دستاویزات کے مطابق تقریباً 10 سالہ تزئین و آرائش منصوبہ آئندہ سال مارچ میں مکمل ہونے والا ہے۔ اس منصوبے کے تحت محل کی پرانی بجلی کی تاریں، لیڈ سے بنی پائپ لائنیں، بوائلرز اور دیگر بنیادی ڈھانچہ تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ آگ اور پانی سے ممکنہ نقصان کے خطرات ختم کیے جا سکیں۔
شاہ چارلس 2003 سے کلیرنس ہاؤس میں مقیم ہیں، جبکہ 2005 میں شادی کے بعد ملکہ کامیلا بھی وہیں رہ رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں کی عمر 70 برس سے زائد ہونے کے باعث وہ دوبارہ بڑے پیمانے پر منتقلی کے عمل سے گزرنا نہیں چاہتے۔
شاہی حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا ایک اہم مقصد بکنگھم پیلس کو عوام کے لیے زیادہ وقت تک کھلا رکھنا بھی ہے۔ اگر بادشاہ محل میں مستقل رہائش اختیار کرتے تو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر عوامی رسائی محدود کرنا پڑتی۔
اگرچہ شاہ چارلس اور ملکہ کامیلا وہاں نہیں رہیں گے، تاہم ریاستی ضیافتیں، گارڈن پارٹیاں، وزرائے اعظم اور غیر ملکی سفیروں سے ملاقاتیں سمیت تمام اہم شاہی تقریبات حسبِ معمول بکنگھم پیلس میں ہی ہوں گی۔
شاہی ترجمان کے مطابق،شاہ چارلس کو بکنگھم پیلس سے گہری وابستگی ہے اور یہ محل مستقبل میں بھی شاہی اور سرکاری سرگرمیوں کا مرکزی مرکز رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی ریڈیو پر شاہ چارلس کی وفات کا اعلان نشر،انتظامیہ کی معذرت
ادھر شاہی اخراجات پر تنقید کرنے والوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر شاہی خاندان محل میں مستقل قیام نہیں کرے گا تو اسے سال بھر عوام کے لیے کھول دیا جائے اور ٹکٹوں سے حاصل ہونے والی آمدنی سرکاری خزانے میں جمع کرائی جائے۔
مالیاتی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ شاہ چارلس برطانیہ کے پہلے فرمانروا بن گئے ہیں جنہوں نے اپنے ٹیکس کی تفصیلات عوام کے سامنے جاری کیں۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے 2024-25 کے دوران 12.9 ملین پاؤنڈ جبکہ 2023-24 میں 11.7 ملین پاؤنڈ ٹیکس ادا کیا۔
واضح رہے کہ 1837 سے بکنگھم پیلس برطانوی فرمانروا کی سرکاری رہائش گاہ رہا ہے، اور ملکہ وکٹوریہ کے بعد پہلی بار کوئی بادشاہ تزئین و آرائش مکمل ہونے کے باوجود وہاں مستقل رہائش اختیار نہ کرنے کا فیصلہ کر رہا ہے۔







