لاہور( پاک ترک نیوز) حکومتِ پنجاب نے درآمدات اور برآمدات پر نیا ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ پنجاب انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس ایکٹ 2026 میں ترامیم کے تحت درآمدات اور برآمدات پر 0.90 فیصد سیس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔
پنجاب اسمبلی نے پنجاب انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس ترمیمی ایکٹ کثرت رائے سے منظور کر لیا ۔۔ بل گورنر پنجاب کی حتمی منظوری کے بعد باقاعدہ قانون بن جائے گا۔
ترمیم شدہ قانون کے مطابق پنجاب میں پیدا، تیار، استعمال، درآمد یا برآمد ہونے والی اشیا پر 0.90 فیصد سیس لاگو ہوگا۔
یہ قانون ان درآمدی اشیا پر بھی لاگو ہوگا جو پنجاب کی حدود سے گزر کر دوسرے علاقوں میں جائیں گی، جس سے انفراسٹرکچر سیس کے دائرہ کار کو مزید وسیع کر دیا گیا ۔
ترامیم کے تحت متعلقہ ادارہ سیس افسران تعینات کرے گا، جنہیں اس ٹیکس کے دائرے میں آنے والی اشیا کی نگرانی، جانچ پڑتال اور تصدیق کے اختیارات حاصل ہوں گے۔
حکام کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ پنجاب بھر میں داخلی، خارجی اور دیگر مخصوص مقامات پر چیک پوسٹس قائم کر سکیں تاکہ قانون پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
مزید برآں، سیس افسران ضرورت پڑنے پر کسٹمز ڈیپارٹمنٹ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھی معاونت حاصل کر سکیں گے۔
صوبائی وزیر برائے پارلیمانی امور مجتبی شجاع الرحمان کا کہنا ہے یہ کوئی نیا ٹیکس نہیں بلکہ کئی برسوں سے موجود ہے، حکومت صرف اس نظام کو بہتر اور منظم کر رہی ہے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا سیس زیادہ تر ان اشیا پر لاگو ہوتا ہے جو کسٹمز چینلز کے ذریعے ملک میں داخل یا باہر جاتی ہیں۔ ان کے مطابق پنجاب اس مد میں سندھ کے مقابلے میں بہت کم آمدن حاصل کر رہا ہے۔سندھ اسی نوعیت کے چارجز سے سالانہ تقریباً 170 ارب روپے وصول کرتا ہے، جبکہ پنجاب کی موجودہ وصولیاں صرف 9 سے 10 ارب روپے کے درمیان ہیں۔












