نئی دہلی ( پاک ترک نیوز) دنیا کے سب سے بڑے دفاعی معاہدوں میں سے ایک ڈگمگانے لگا۔۔۔ بھارت اور فرانس کے درمیان رافیل طیاروں کی ڈیل تعطل کا شکار ہو گیا ، جبکہ پس پردہ روس کا کردار بھی سوالیہ نشان بن گیا ،اور حیران کن طور پر اس ساری صورتحال میں یوکرین کو فائدہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے!
چند ماہ قبل تک بھارت اور فرانس کے درمیان 114 رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری کا تاریخی معاہدہ طے پانے کے قریب تھا، جس کی مالیت اربوں یورو بتائی جا رہی تھی۔ لیکن اب یہ ڈیل تقریباً ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
نئی دہلی نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی معاہدے میں مکمل تکنیکی خودمختاری چاہتا ہے، خاص طور پر اپنے ہتھیاروں اور سسٹمز کو رافیل طیاروں میں بغیر کسی پابندی کے شامل کرنے کا حق۔ یہ شرط بھارت کے “آتم نربھر بھارت” پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد دفاعی شعبے میں خود انحصاری حاصل کرنا ہے۔
بھارت مطالبہ کر رہا ہے کہ اسے انٹر فیس کنٹرول ڈاکو منٹ تک رسائی دی جائے تا اہم فرانس اس حساس معلومات تک رسائی دینے سے گریزاں ہے اور چاہتا ہے کہ تمام انٹیگریشن کا کنٹرول اسی کے پاس رہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے بھارت کو بڑا معاشی دھچکا
فرانس کو خدشہ ہے کہ اگر بھارت کو زیادہ تکنیکی رسائی دی گئی تو اس کے قریبی تعلقات کی وجہ سے روس کو بھی اس حساس ٹیکنالوجی تک رسائی مل سکتی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف فرانس بلکہ رافیل طیارہ استعمال کرنے والے دیگر ممالک کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔
دوسری جانب بھارت پہلے ہی شکایت کر چکا ہے کہ رافیل طیاروں کی مینٹیننس بہت مہنگی ہے کیونکہ فرانس سورس کوڈ فراہم نہیں کرتا۔ اسی لیے بھارت اب زیادہ خودمختاری کے بغیر کسی معاہدے پر راضی نہیں۔
ماہرین کے مطابق روس اس معاملے میں ایک خاموش مگر اہم فیکٹر ہے۔ بھارت کے ساتھ اس کے قریبی دفاعی تعلقات فرانس کے لیے تشویش کا باعث ہیں، کیونکہ جدید ٹیکنالوجی کے لیک ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
حیران کن طور پر اس تعطل کا سب سے بڑا فائدہ یوکرین کو ہو سکتا ہے۔ یوکرین بھی رافیل طیارے حاصل کرنے کا خواہاں ہے، اور اگر بھارت کی ڈیل تاخیر کا شکار ہوتی ہے تو یوکرین کو پہلے طیارے حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
مزید یہ کہ فرانس پہلے ہی رافیل کے جدید ورژن F5 پر کام کر رہا ہے، جس سے یوکرین کے لیے مزید جدید آپشنز کھل سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ تنازع صرف ایک دفاعی معاہدے تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے عالمی طاقتوں کی سیاست، ٹیکنالوجی کا کنٹرول اور اسٹریٹجک اتحاد چھپے ہوئے ہیں۔
بھارت خودمختاری چاہتا ہے، فرانس اپنی ٹیکنالوجی کا تحفظ، جبکہ روس کا ممکنہ اثر اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
کیا بھارت اور فرانس کے درمیان یہ تاریخی معاہدہ مکمل طور پر ختم ہو جائے گا؟ کیا روس کا اثر واقعی اس ڈیل کو روک رہا ہے؟،اور کیا یوکرین اس صورتحال کا سب سے بڑا فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہو جائے گا؟آنے والے دنوں میں یہ عالمی دفاعی سیاست کا ایک بڑا موڑ ثابت ہو سکتا ہے












