ڈھاکہ : (پاک ترک نیوز)بنگلادیش نے کرکٹ کے محاذ پر غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے اپنا ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بھارت میں میچز کھیلنے سے انکار پر بنگلادیش کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر کر دیاتھا۔
بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے مطابق یہ ٹورنامنٹ تین ٹیموں پر مشتمل ہے اور خاص طور پر اُن کھلاڑیوں کے لیے ترتیب دیا گیا ہے جو ورلڈ کپ میں شرکت سے محروم رہ گئے تھے۔
حکومت کی جانب سے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بھارت جانے کی اجازت نہ ملنے کے بعد بی سی بی نے یہ متبادل راستہ اختیار کیا۔
یہ ٹی 20 ایونٹ 5 فروری سے شروع ہو چکا ہے اور اس میں تین ٹیمیں — ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی۔ ٹیموں کی قیادت بنگلادیش کے نمایاں کرکٹرز لٹن داس، نجمُل حسین شانٹو اور اکبر علی کر رہے ہیں۔
ٹورنامنٹ کا فارمیٹ راؤنڈ رابن رکھا گیا ہے، جس کے تحت تمام ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف ایک ایک میچ کھیلیں گی۔
گروپ مرحلے کے مقابلے 5، 6 اور 7 فروری کو ڈھاکا کے شیر بنگلا نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے، جبکہ سرفہرست دو ٹیمیں 9 فروری کو فائنل میں آمنے سامنے آئیں گی۔
اس ٹورنامنٹ کی ایک اور نمایاں خصوصیت امپیکٹ پلیئر رول کا نفاذ ہے، جو بنگلادیش میں کسی سرکاری ٹی 20 مقابلے میں پہلی بار متعارف کرایا گیا ہے۔
اس قانون کے تحت ٹیم میچ کے دوران ابتدائی گیارہ کھلاڑیوں میں سے کسی ایک کو پہلے سے منتخب بارہویں کھلاڑی سے تبدیل کر سکتی ہے، جس کا اعلان ٹاس کے وقت کیا جائے گا۔
بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے مطابق اس ایونٹ کو باضابطہ ٹی ٹوئنٹی کا درجہ حاصل ہے اور اس میں مجموعی طور پر 2 کروڑ 50 لاکھ ٹکا کی انعامی رقم اور کھلاڑیوں کی فیس شامل ہے۔












