اسلام آباد( پاک ترک نیوز) بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی اور ملاقاتوں سے متعلق کیس کی سماعت میں وفاقی اور پنجاب حکومت کی جانب سے کوئی نمائندہ سپریم کورٹ میں پیش نہ ہوا، جبکہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔سپریم کورٹ نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے اٹارنی جنرل کو فوری طور پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا اور سماعت میں وقفہ کردیا۔
مختصر وقفے کے بعد ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی آئینی عدالت نے گزشتہ روز حکم نامہ جاری کیا ہے اور اس مقدمے کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ ججز کو پڑھ کر سنایا۔اس موقع پر جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ کیا اٹارنی جنرل دفتر میں موجود ہیں؟رانا اسد نے جواب دیا کہ جی ہاں، اٹارنی جنرل دفتر میں موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مکہ مکرمہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے والاحوثی ڈرون تباہ
عدالت نے اٹارنی جنرل کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔اٹارنی جنرل کے عدالت میں پیش ہونے تک سماعت میں وقفہ کردیا گیا، جبکہ بینچ اٹھ کر چلا گیا۔












