تہران ( پاک ترک نیوز) کیا مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا ایک نئے طاقت کے کھیل کی طرف بڑھ رہے ہیں؟
کیا واقعی کوئی ایسی انتہا پسند تنظیم موجود ہے جس کا اگلا ہدف پاکستان ہو سکتا ہے؟اور دوسری جانب ایران میں قیادت کے تسلسل کے لیے خفیہ منصوبہ بندی کیوں شروع کی گئی؟
یہ سوالات عالمی سیاست میں ایک بڑے طوفان کی نشاندہی کر رہے ہیں۔Benjamin Netanyahu نے "ہیکساگون آف الائنسز” (Hexagon of Alliances) کا تصور پیش کیا ہے۔ اس میں بھارت، عرب ممالک، افریقی ریاستیں، یونان، قبرص اور دیگر ایشیائی شراکت دار شامل کیے جا سکتے ہیں۔
مقصد کیا ہے؟
خطے میں طاقت کا توازن اپنے حق میں کرنا اور ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہ نیٹ ورک مکمل ہو جاتا ہے تو کیا اس کا اثر صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود رہے گا یا جنوبی ایشیا بھی اس میں شامل ہو جائے گا؟
دوسری جانب The New York Times کی ایک رپورٹ نے ہلچل مچا دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر Ali Khamenei نے ممکنہ ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر قیادت کے چار سطحی جامع کنٹرول سسٹم کی تشکیل کی ہے۔
فوجی اور سرکاری اداروں میں مختلف سطحوں پر جانچ پڑتال شروع کی گئی ہے تاکہ کسی بھی حملے یا مواصلاتی نظام کی خرابی کی صورت میں ریاستی نظام مکمل طور پر فعال رہے۔
اس کا کیا مطلب ہے؟
کیا ایران خطرے میں ہے؟
یا یہ طویل المدتی جنگی تیاری کا حصہ ہے؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ قیادت کو نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی کو ناکام بنانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہو؟
عالمی اتحاد تشکیل پا رہے ہیں۔
خفیہ منصوبے تیار کیے جا رہے ہیں۔
اور ہر ملک اپنی آئندہ جنگی حکمتِ عملی کے لیے نئی صف بندیاں کر رہا ہے۔












