واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)پینٹاگان مبینہ طور پر ایسے پلانز تیار کر رہا ہے جو چند دن نہیں بلکہ ہفتوں تک جاری رہنے والی مکمل فوجی کارروائی پر مبنی ہیں۔ بات صرف نیوکلیئر تنصیبات تک محدود نہیں بلکہ ایرانی ریاستی ڈھانچے اور سکیورٹی چین آف کمانڈ تک جا سکتی ہے۔
سوال یہ ہے کیا یہ صرف دباؤ ہے یا فیصلہ ہو چکا ہے؟اطلاعات کے مطابق خطے میں امریکی طاقت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ جدید جنگی طیارے، اسٹرائیک فورسز اور ایک اور ایئرکرافٹ کیریئر کی ممکنہ تعیناتی۔
یہ سب کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ لگ رہا ہے۔ اگر جون 2025ء کی ایران اسرائیل کشیدگی ایران کیلئے مشکل تھی تو آنے والا منظر اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔
کچھ تجزیہ کار تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ ممکنہ حملے کا مقصد صرف فوجی تنصیبات نہیں بلکہ پورے کمانڈ اسٹرکچر کو مفلوج کرنا ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
مگر سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی فوجی نقل و حرکت بغیر کسی حتمی پلان کے کیوں؟خطے میں F-15E اسٹرائیک ایگل طیاروں کی آمد نے طاقت کا توازن بدل دیا ہے۔
کیا ایران اس ممکنہ طوفان کا مقابلہ کر پائے گا؟ یا مشرقِ وسطیٰ ایک نئی، تباہ کن جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے؟ یہ صرف ایک جنگ نہیں ہوگی۔ یہ پورے خطے کا نقشہ بدل سکتی ہے۔
فیصلہ قریب ہے۔ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ اور دنیا سانس روکے دیکھ رہی ہے۔












