لاہور:(پاک ترک نیوز)موسم سرما کے ساتھ ہی نزلہ، زکام اور کھانسی عام ہوجاتی ہے۔ ایسے میں دیسی علاج ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
انہی دیسی نسخوں میں اجوائن کو خاص اہمیت حاصل ہے، جسے صدیوں سے سردی سے جڑی بیماریوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اجوائن کے بیجوں اور اس کے تیل میں تھائمل نامی ایک قدرتی مرکب پایا جاتا ہے، جو جراثیم کش اور اینٹی سوزش خصوصیات رکھتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسے گلے کی سوزش، کھانسی، بند ناک اور سانس کی تکالیف میں مفید سمجھا جاتا ہے۔ یہی مرکب تھائمل ہوا کی نالیوں کو کھولنے اور بلغم کو نرم کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے سانس لینے میں آسانی محسوس ہوتی ہے۔
تاہم ماہرین نے کہتے ہیں کہ اجوائن کسی بیماری کا مکمل علاج نہیں بلکہ علامات میں عارضی کمی کا ذریعہ ہے۔
سردیوں میں اجوائن کا استعمال نا صرف سانس کی تکالیف بلکہ ہاضمے کی خرابی میں بھی مفید سمجھا جاتا ہے، نزلہ و زکام کے دوران اکثر معدہ بھاری رہتا ہے یا اپھارہ محسوس ہوتا ہے۔
اسی طرح اجوائن کا تیل ہاضمے کو متحرک کرتا ہے اور معدے کی تیزابیت کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ تاہم ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اجوائن کا تیل ضرورت سے زیادہ استعمال کرنے پر نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق اجوائن کے بیجوں کی بھاپ نزلہ و زکام میں فوری آرام دے سکتی ہے، کیونکہ گرم بھاپ بلغم کو نرم کر کے سینے اور ناک کی بندش کم کرتی ہے۔ اجوائن کی خوشبو سانس کو ہموار بنانے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ اگرچہ جوائن سردیوں کے امراضِ میں وقتی آرام فراہم کر سکتی ہے مگر مکمل شفا کے لیے آرام، مناسب علاج اور ڈاکٹر سے رجوع ناگزیر ہے۔










