واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) ایران کے سرکاری انگریزی اخبار تہران ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک مبینہ آٹھ نکاتی جنگی منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس منصوبے میں اہم ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے، بڑے شہروں اور جوہری تنصیبات پر حملوں، اور ممکنہ زمینی و محدود ایٹمی کارروائیوں کی تجاویز شامل بتائی گئی ہیں۔
عرب خبر رساں ویب سائٹ العربیہ اردو کے مطابق، اس منصوبے کے تحت ایرانی قیادت کو ہدف بنایا جائے گا اور بڑے شہری مراکز کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی بھی شامل ہے۔ مزید یہ کہ شمال مغرب سے تقریباً چار ہزار افراد پر مشتمل اپوزیشن فورسز کے ساتھ زمینی کارروائی کی تجویز دی گئی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنوب مشرقی سمت سے تقریباً 2,500 امریکی فوجی ایران میں داخل ہو سکتے ہیں، جبکہ فوجی نقل و حرکت کے لیے بندر عباس، کرمانشاہ، ارمیہ اور تبریز کے ہوائی اڈوں کے استعمال کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسی طرح میزائل حملوں کے لیے چھوٹے یونٹس کو پیراشوٹ کے ذریعے شہری اور جوہری تنصیبات کے قریب اتارنے کی بات بھی کی گئی ہے۔
تاہم یہ بات اہم ہے کہ اس نوعیت کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی، اور نہ ہی امریکا یا اسرائیل کی جانب سے اس طرح کے کسی منصوبے کی باضابطہ توثیق سامنے آئی ہے۔ اس لیے اسے ایک غیر مصدقہ رپورٹ کے طور پر احتیاط سے دیکھنا چاہیے۔












