تہران ( پاک ترک نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست عسکری محاذ آرائی کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس کی افواج نے ایران کے جنوبی علاقوں میں واقع بعض فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جن میں شہر گورُک اور جزیرہ قشم میں موجود ریڈار اور ڈرون سے متعلق تنصیبات شامل ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی خطے میں امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کے تحفظ کے لیے کی گئی۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ حملوں کا مقصد ایران کی ان صلاحیتوں کو محدود کرنا تھا جو خطے میں نگرانی، انٹیلی جنس جمع کرنے اور ڈرون آپریشنز کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملوں میں متعدد تنصیبات کو نقصان پہنچا، تاہم جانی نقصانات کے حوالے سے فوری طور پر کوئی مصدقہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے امریکی کارروائی کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ ایرانی ذرائع کے مطابق حملوں کے بعد جوابی کارروائی کے طور پر خطے میں موجود ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔ اگرچہ اس حملے کی مکمل نوعیت اور نقصانات کی تفصیلات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکیں، تاہم اطلاعات کے مطابق امریکی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خطے میں تعینات فوجی دستوں کو اضافی حفاظتی اقدامات کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات ایک ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ مختلف سکیورٹی چیلنجز اور تنازعات کی زد میں ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان برسوں سے جاری کشیدگی مختلف ادوار میں شدت اختیار کرتی رہی ہے، تاہم حالیہ حملوں اور جوابی اقدامات نے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے کہ کہیں یہ تنازع وسیع تر عسکری تصادم کی شکل اختیار نہ کر لے۔
عالمی سطح پر بھی ان واقعات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ متعدد ممالک نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے کے امن و استحکام کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ اگر موجودہ صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دن اس بحران کے حوالے سے انتہائی اہم ہوں گے۔ دنیا کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا دونوں ممالک کشیدگی میں مزید اضافہ کرتے ہیں یا سفارتی ذرائع کے ذریعے صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔












