واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی فوج کا ایف اے 18 ہارنیٹ طیارہ تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہو گیا ۔
امریکا میں معمول کی تربیتی سرگرمی کے دوران امریکی میرین کور کا ایف اے 18 ہارنیٹ لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا، جس کے بعد متعلقہ حکام نے حادثے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارہ ایک طے شدہ تربیتی مشن پر روانہ ہوا تھا جب دورانِ پرواز اسے حادثہ پیش آیا۔
امریکی فوجی حکام کے مطابق حادثہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب پائلٹ معمول کی مشقوں میں مصروف تھا۔ واقعے کے فوراً بعد ریسکیو اور ہنگامی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے حادثے کی درست وجوہات کے بارے میں حتمی رائے دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ طیارہ تکنیکی خرابی، موسمی عوامل یا کسی اور وجہ سے تباہ ہوا۔
ایف اے 18 ہارنیٹ امریکی فوج کے زیرِ استعمال ایک معروف کثیر المقاصد لڑاکا طیارہ ہے جو فضائی دفاع، زمینی اہداف پر حملوں اور مختلف عسکری آپریشنز میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ طیارہ کئی دہائیوں سے امریکی دفاعی صلاحیت کا حصہ رہا ہے اور دنیا کے مختلف خطوں میں فوجی کارروائیوں کے دوران استعمال ہوتا رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور جنگی صلاحیتوں سے لیس ہونے کے باوجود کسی بھی فوجی طیارے کی طرح اسے بھی تکنیکی مسائل یا غیر متوقع حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق تربیتی پروازیں کسی بھی فضائیہ یا فوجی یونٹ کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہیں کیونکہ انہی کے ذریعے پائلٹس اپنی مہارت برقرار رکھتے اور مختلف حالات میں ردعمل دینے کی مشق کرتے ہیں۔ تاہم اس نوعیت کی سرگرمیوں میں بعض اوقات حادثات بھی پیش آ جاتے ہیں، جن کے بعد حفاظتی اقدامات اور آپریشنل طریقہ کار کا ازسرِ نو جائزہ لیا جاتا ہے۔
حادثے کے بعد امریکی فوج نے متاثرہ یونٹ کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور متعلقہ ریکارڈ، فلائٹ ڈیٹا اور تکنیکی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم طیارے کے ملبے کا معائنہ بھی کرے گی تاکہ حادثے کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے۔ اس دوران فوجی حکام نے کہا ہے کہ فضائی آپریشنز کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے اور تحقیقات کے نتائج کی روشنی میں ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
امریکا میں فوجی تربیتی مشقوں کے دوران پیش آنے والے ایسے واقعات دفاعی اداروں کے لیے تشویش کا باعث بنتے ہیں، کیونکہ ان سے نہ صرف قیمتی عسکری اثاثوں کا نقصان ہوتا ہے بلکہ حفاظتی نظام کی مؤثریت کا بھی جائزہ لینا پڑتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس حادثے کی مکمل تحقیقات مستقبل میں اسی نوعیت کے واقعات کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوں گی۔
ابتدائی مرحلے میں حادثے کی وجہ واضح نہیں ہو سکی، تاہم تحقیقات مکمل ہونے تک اس حوالے سے مزید معلومات سامنے آنے کا امکان ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے واقعے کی تفصیلات جمع کرنے کا عمل جاری ہے اور آئندہ دنوں میں اس بارے میں مزید حقائق سامنے آ سکتے ہیں۔












