واشنگٹن :(پاک ترک نیوز) کیا آپ جانتے ہیں کہ امریکا ایک ایسی جنگی مشق ہار چکا ہے جس نے پوری امریکی عسکری سوچ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ کوئی فلمی کہانی نہیں، یہ حقیقت ہے۔
سن 2002 ء میں امریکا نے Millennium Challenge کے نام سے تاریخ کی سب سے مہنگی اور بڑی جنگی مشق منعقد کی۔
250 ملین ڈالر کی لاگت، 13 ہزار سے زائد فوجی اہلکار، 2 سال کی منصوبہ بندی۔ مقصد تھا جدید ٹیکنالوجی کی طاقت آزمانا۔امریکا خود کو "بلیو ٹیم” کہہ رہا تھا، جبکہ فرضی دشمن یعنی "ریڈ ٹیم” کی قیادت ریٹائرڈ میرین جنرل پال وان رائپر کے ہاتھ میں تھی، جسے ایران جیسی خلیجی طاقت کی نمائندگی سونپی گئی۔
لیکن کہانی یہاں پلٹ گئی۔ دوسرے ہی دن جنرل وان رائپر نے وہ کیا جس کی امریکی اسٹریٹجسٹس نے کبھی توقع نہیں کی تھی۔
نہ جدید سیٹلائٹ، نہ مہنگے سسٹمز بلکہ غیر روایتی جنگی حکمت عملی۔ انہوں نے ایک ساتھ کروز میزائلز داغے، چھوٹی خودکش کشتیاں بھیجیں، اور امریکی بحری بیڑے کو سنبھلنے کا موقع تک نہ دیا۔
نتیجہ؟ صرف چند گھنٹوں میں 19 امریکی جنگی جہاز “ڈوب” چکے تھے، جن میں ایک ایئرکرافٹ کیریئر، 10 کروزرز اور 5 ایمفیبیئس شپس شامل تھیں۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ حقیقی جنگ ہوتی تو 20 ہزار سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہوتے۔ امریکی قیادت اس ذلت کو برداشت نہ کر سکی۔ کھیل کو ری اسٹارٹ کیا گیا، اصول بدلے گئے، اور باقی مشق اسکرپٹ کے مطابق چلائی گئی۔
آج، دو دہائیاں بعد، یہی حکمت عملی چین کی نیوی اور ایران جیسے ممالک اپنا رہے ہیں ۔ سوارمنگ بوٹس، کروز میزائلز، سائبر وارفیئر۔
اسی لیے اگر کبھی امریکہ اور ایران آمنے سامنے آئے، تو ایک بات طے ہے: امریکی بحری جہاز ایرانی ساحل کے قریب آنے کی جرات نہیں کریں گے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے ۔ ٹیکنالوجی اکیلی جنگ نہیں جتاتی، اصل فرق حکمتِ عملی ڈالتی ہے۔












