پورٹ آف اسپین، ٹرینیڈاڈ : (پاک ترک نیوز) — امریکہ نےکیربیئن جریزے ڈومینیکا کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت وہ غیر ملکی افراد کو، جو امریکہ میں پناہ چاہتے ہیں، اس چھوٹے کیریبین ملک بھیج سکے گا۔
ڈومینیکا کے وزیرِ اعظم روز ویلٹ سکیرٹ نے اس معاہدے کو "تعاون کے اہم شعبوں میں سے ایک” قرار دیا، جبکہ ملک حال ہی میں امریکہ کی جانب سے جزوی ویزا پابندیوں کا سامنا کر چکا ہے۔
ڈومینیکا کی حکومت امریکی حکام کے ساتھ مذاکرات کر رہی تھی تاکہ ان داخلے کی پابندیوں کا حل نکالا جا سکے۔وزیرِ اعظم سکیرٹ نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، جیسے کہ امریکہ کب سے پناہ گزینوں کو ڈومینیکا بھیجنا شروع کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ساتھ بات چیت کے دوران یہ بات خاص طور پر دھیان میں رکھی گئی کہ ملک میں ایسے افراد نہ آئیں جو پرتشدد ہوں یا ڈومینیکا کی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈالیں۔
ڈومینیکا کی آبادی تقریباً 72,000 افراد پر مشتمل ہے، اور پیر کے اعلان کے بعد مقامی لوگ اس بات پر فکرمند ہیں کہ آیا جزیرہ پناہ گزینوں کو اپنے وسائل سے سنبھال سکتا ہے یا نہیں، جیسا کہ ملک کی اپوزیشن پارٹی کے رہنما تھامسن فونٹین نے بتایا۔
فونٹین نے کہا، "وزیرِ اعظم نے اب تک عوام کو یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے کتنے افراد ڈومینیکا بھیجنے پر اتفاق کیا ہے، انہیں کہاں رکھا جائے گا اور ان کی دیکھ بھال کیسے کی جائے گی۔”صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس سے قبل بیلیز اور پیراگوئے جیسے ممالک کے ساتھ بھی ایسے معاہدے کیے ہیں تاکہ لاطینی امریکہ اور افریقہ کے ممالک پر پناہ گزینوں کی قبولیت کے دباؤ میں اضافہ کیا جا سکے۔
اسی دن، انٹیگوا اور باربودا نے بھی ایک غیر لازمی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جو امریکہ کی جانب سے دنیا بھر میں پناہ گزینوں کی ذمہ داری بانٹنے کی کوشش کے تحت پیش کی گئی۔
مقامی حکام نے کہا کہ انٹیگوا اور باربودا ایسے کسی بھی شخص کو قبول نہیں کرے گا جس کا کریمنل ریکارڈ ہو۔گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ نے مزید 20 ممالک، جن میں ڈومینیکا اور انٹیگوا و باربودا شامل ہیں، پر سفری پابندیاں بڑھانے کا اعلان کیا تھا، جو یکم جنوری سے نافذ العمل ہو گئی ہیں۔












