لاہور( پاک ترک نیوز) اردو قوالی کی دنیا میں منفرد مقام رکھنے والے معروف قوال مقبول احمد صابری کو مداحوں سے بچھڑے پندرہ برس بیت گئے، تاہم ان کی آواز اور صوفیانہ کلام آج بھی قوالی کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہے۔مقبول احمد صابری نے اپنے بڑے بھائی غلام فرید صابری کے ساتھ مل کر صابری برادرز کی بنیاد رکھی۔ دونوں بھائیوں نے اپنی منفرد آواز، پُرسوز انداز اور روحانی کیفیت سے قوالی کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں نئی پہچان دی۔
صابری برادرز نے برصغیر کی روایتی قوالی کو جدید دور کے سامعین تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی آواز میں پیش کیے گئے صوفیانہ کلام نے قوالی کو پاکستان کی سرحدوں سے نکال کر عالمی سطح پر متعارف کرایا۔تاجدارِ حرم، بھر دو جھولی میری اور میرا کوئی نہیں ہے تیرے سوا جیسے مقبول کلام نے مقبول صابری کو قوالی کے بڑے ناموں میں شامل کردیا۔مقبول صابری کی گائیکی میں سوز، عقیدت اور روحانی کیفیت نمایاں تھی۔ ان کا اندازِ گائیکی صرف الفاظ کی ادائیگی تک محدود نہیں تھا بلکہ سامعین کو کلام کی کیفیت اور پیغام سے جوڑ دیتا تھا۔مقبول صابری اور غلام فرید صابری کی جوڑی نے دنیا کے مختلف ممالک میں قوالی پیش کی اور پاکستانی صوفیانہ موسیقی کو عالمی سطح پر پذیرائی دلائی۔ ان کی قوالیوں نے مختلف زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے سامعین کو بھی متاثر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: جامعہ کراچی کے پروفیسر عارف ساقی پر تشدد کیس میں اہم پیشرفت، ملزم کی معذرت پر صلح ہوگئی
مقبول احمد صابری 21 ستمبر 2011 کو جنوبی افریقا کے شہر کیپ ٹاؤن میں انتقال کرگئے تھے۔ آج ان کی پندرھویں برسی کے موقع پر فنِ قوالی سے وابستہ حلقے اور مداح انہیں خراجِ عقیدت پیش کررہے ہیں۔مقبول صابری دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کی آواز میں گونجنے والا صوفیانہ کلام آج بھی محفلوں کی زینت ہے۔۔۔وقت گزرتا گیا، مگر مقبول صابری کی قوالی کا سحر آج بھی برقرار ہے۔












