واشنگٹن / لندن: (پاک ترک نیوز)برطانیہ اور امریکا نے مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں اسرائیل کے کنٹرول کو وسعت دینے کے اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کے فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
دونوں ممالک نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر اسرائیل کے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔پیر کے روز امریکی اور برطانوی حکام نے واضح کیا کہ مغربی کنارے میں اسرائیل کا انتظامی اور قانونی کنٹرول مضبوط کرنے کا فیصلہ خطے میں امن کی کوششوں کے منافی ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ ایک مستحکم مغربی کنارہ اسرائیل کی سلامتی کے لیے ضروری ہے اور یہی امریکی انتظامیہ کا خطے میں امن کے قیام کا بنیادی ہدف بھی ہے۔
امریکی عہدیدار نے اس موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ امریکا اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کو ضم کرنے (الحاق) کی مخالفت کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی واضح ہے کہ مغربی کنارہ اسرائیل میں ضم نہیں کیا جائے گا اور یہی امریکی مؤقف مستقبل میں بھی برقرار رہے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں اس منصوبے کی ابتدائی منظوری کے بعد اس وقت کے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی شدید ردعمل دیا تھا۔ انہوں نے اس اقدام کو اپوزیشن کی جانب سے دانستہ سیاسی اشتعال انگیزی قرار دیا تھا۔
اسرائیل کے دورے کے دوران، جو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کے تناظر میں تھا، جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب برطانیہ نے بھی اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے پر کنٹرول بڑھانے کے فیصلے کو فوری طور پر واپس لے۔ برطانوی حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کے اس فیصلے کی سخت مذمت کرتی ہے۔
برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں آبادکاری کو آسان بنانے اور اسرائیلی اختیارات میں توسیع کا یہ اقدام دراصل مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے الحاق کی جانب ایک خطرناک قدم ہے۔
برطانوی حکومت کے مطابق فلسطین کی جغرافیائی یا آبادیاتی ساخت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے اور یہ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہوگی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل فوری طور پر ان فیصلوں کو واپس لے، کیونکہ ایسے اقدامات نہ صرف امن عمل کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کو بھی مزید بڑھا سکتے ہیں۔












