راولپنڈی :(پاک ترک نیوز)آج دنیا بھر کے دفاعی حلقوں میں ایک ہی نام گونج رہا ہے۔ JF-17 تھنڈر بلاک تھری۔ وہی جہاز جس نے جنوبی ایشیاء میں طاقت کے توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
سب سے بڑی خبر یہ ہے کہ بنگلا دیش نے بھی JF-17 تھنڈر بلاک تھری حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کر دی ہے۔ بنگلا دیش ایئر فورس کے سربراہ کے حالیہ دورۂ پاکستان کے دوران، پاک فضائیہ کے سربراہ سے ملاقات میں JF-17 بلاک تھری کی خریداری پر سنجیدہ گفتگو ہوئی۔
سوال یہ ہے کہ آخر دنیا پاکستان کے اس جہاز کی طرف کیوں لپک رہی ہے؟اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔ JF-17 بلاک تھری ایک 4.5 جنریشن ملٹی رول فائٹر ہے، جو AESA ریڈار، طویل فاصلے تک مار کرنے والے BVR
میزائلز اور جدید الیکٹرانک وارفیئر صلاحیتوں سے لیس ہے۔
یہ وہی پلیٹ فارم ہے جس نے 2019 میں بھارتی غرور کو زمین پر دے مارا اور جس کے بعد رافیل، مگ-29 اور Su-30 جیسے ناموں کی چمک ماند پڑ گئی۔آج پاکستان ناصرف یہ جہاز خود بنا رہا ہے بلکہ آذربائیجان، میانمار اور نائجیریا کو فروخت بھی کر چکا ہے، جبکہ عراق، لیبیا اور اب بنگلا دیش جیسے ممالک قطار میں کھڑے ہیں۔
یہ وہ مقام ہے جہاں بھارت کو سب سے زیادہ تکلیف ہو رہی ہے، کیونکہ بھارت آج بھی ففتھ جنریشن کا خواب آنکھوں میں بسائے در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی دنیا میں صرف پاکستان وہ واحد ملک ہے جو جنگی طیارہ بنا کر دنیا کو فروخت کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی کے دفاعی تجزیہ کار آج بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، کیونکہ اگر JF-17 بنگلا دیش پہنچ گیا تو بھارت مشرقی محاذ پر بھی غیر محفوظ ہو جائے گا۔ یہ صرف ایک جہاز نہیں، یہ پاکستان کی تکنیکی برتری، عسکری خودمختاری اور خطے میں فیصلہ کن طاقت کا اعلان ہے۔












