لندن ( پاک ترک نیوز) دنیا بھر میں فوجی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری نئی دفاعی ٹیکنالوجی پر کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق روایتی اسلحہ سازی کا نظام اب تیزی سے جدید عسکری ٹیکنالوجی کی صنعت میں تبدیل ہو رہا ہے، جہاں جنگی منصوبہ بندی، نگرانی، ڈرونز اور فیصلہ سازی میں مصنوعی ذہانت مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔
ماضی میں جنگیں ٹینکوں، جنگی طیاروں، توپ خانے اور فوجیوں کے ذریعے لڑی جاتی تھیں، مگر اب کمپیوٹر نظام، خودکار ڈرونز، جدید معلوماتی نظام اور مصنوعی ذہانت جنگی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔
برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے حال ہی میں دو ارب پاؤنڈ کے پندرہ سالہ معاہدے کے تحت ہر سال ساٹھ ہزار فوجیوں کو مصنوعی ذہانت کے استعمال کی تربیت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسی طرح نیٹو نے بھی اپنے فضائی نگرانی اور کمان کے جدید نظام کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنیوں کو اہم ذمہ داریاں سونپی ہیں تاکہ مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو ایک ہی جگہ جمع کر کے فوری فیصلے کیے جا سکیں۔
رپورٹ کے مطابق دو ہزار پچیس میں دنیا کے فوجی اخراجات دو اعشاریہ اٹھاسی ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے، جبکہ کئی ممالک اپنی افواج کو مصنوعی ذہانت سے لیس کرنے کے لیے ریکارڈ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خلائی کمپیوٹنگ میں بڑا قدم، انٹیل نے سیٹلائٹس کےلیے نیا پراسیسر متعارف کرا دیا
ماہرین کے مطابق اس نئی صنعت کے چار بڑے شعبے ہیں،ان میں روایتی اسلحہ بنانے والی دفاعی کمپنیاں۔ فوج کے لیے جدید سافٹ ویئر اور خودکار نظام تیار کرنے والی نئی کمپنیاں۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں،وہ تحقیقی ادارے، جو جدید مصنوعی ذہانت کے بنیادی نظام تیار کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں نے ثابت کر دیا ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں صرف اسلحہ ہی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت، معلومات اور جدید کمپیوٹر نظام بھی فیصلہ کن کردار ادا کریں گے، جس کے باعث دنیا کی بڑی طاقتیں اس شعبے میں سرمایہ کاری مسلسل بڑھا رہی ہیں۔












