
از: سہیل شہریار
ترکیہ نیٹو کے دفاعی صنعتی نظام کے اندر زیادہ ذمہ داری لینے کے لیے تیار ہے اور چاہتا ہے کہ اتحادی اسے نہ صرف پلیٹ فارم فراہم کرنے والے کے طور پر بلکہ تربیت، ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ پیداوار اور طویل مدتی صنعتی تعاون کی پیشکش کرنے کے قابلتزویراتی شراکت دارکے طور پر دیکھیں۔
آئندہ ماہ 7اور8جولائی کو 22سال کے وقفے کے بعد ترکیہ میں منعقد ہونے والے نیٹو کے سربراہی اجلاس کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ اسی ضمن میں ترکیہ کی صدارت برائے دفاعی صنعت (ایس ایس بی )کی جانب سے ریمارکس نہ صرف انقرہ کے اس اجتماع کو اپنی فوجی صلاحیت کے اظہار کے لئے استعمال کرنے بلکہ خود کو نیٹو کی صنعتی سپلائی چین میں ایک مرکزی نوڈ کے طور پرشامل کرنے کے ارادے کا اشارہ دیتے ہیں۔آج کا ترکیہ بیرونی خریداری پر بہت زیادہ انحصار کے دور سے اس دور میں منتقل ہو گیا ہے جہاں اس کی کمپنیاں "مختلف آپریشنل ڈومینز میں جدید نظام کو ڈیزائن، ترقی، پیداوار اور، جدید کاری کو برقرار اور برآمد کر سکتی ہیں۔
ترک صدارت برائے دفاعی صنعت کا دعویٰ ہے کہ اس کے لیے، تکنیکی آزادی کوئی نعرہ نہیں ہے۔ یہ ایک تزویراتی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب ہے اہم ٹیکنالوجیز کو محفوظ بنانا، سپلائی چین کو مضبوط کرنا، اپنی انجینئرنگ کی صلاحیتوں کو فروغ دینا، اور اس بات کو یقینی بنانا کہ ہماری سیکیورٹی فورسز کو جب بھی ضرورت ہو تو انہیں قابل اعتماد نظام تک رسائی حاصل ہو۔ چنانچہ ترکیہ کی دفاعی برآمدی حکمت عملی کو لین دین کے بجائے شراکت داری کے نظریے پر استوار کیا گیا ہے۔جو صرف ایک سپلائر کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے اسٹریٹجک پارٹنر کے طوروسعت کی حامل ہے۔جس میں تربیت، دیکھ بھال، جدید کاری، مقامی صلاحیت کی تعمیر، اور جہاں مناسب حالات ہوں، مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کے تعاون میں مدد شامل ہیں۔
ڈرون، فضائی دفاع، بحری نظام، سائبرایس ایس بی کا کہنا ہے کہ ترک کمپنیاں بغیر پائلٹ کے نظام، فضائی دفاع، کمانڈ اینڈ کنٹرول، محفوظ مواصلات، الیکٹرانک جنگ، بحری نظام، سائی بر لچک اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں نیٹو کی ضروریات کو پورا کر سکتی ہیں۔کیونکہ ترکیہ کی طاقت انفرادی پلیٹ فارم کے بجائے مربوط حل پیش کرنے کی صلاحیت میں مضمر ہے۔اس حوالے سے جرمنی میں نیٹو کی اسٹیڈ فاسٹ ڈارٹ 2026مشق کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ترک مسلح افواج نے زمینی اور بحری دونوں راستوں کا استعمال کرتے ہوئے تقریباً 2,000 اہلکاروں کو 6,450 کلومیٹر کے علاقے میںتعینات کیا۔جس نے ترکیہ کی حرکت، تیاری، باہمی تعاون اورعملی قدرکو ثابت کیا ہے۔
ترکیہ میں بنائے جا رہےبغیر پائلٹ کے نظاموں کی اگلی نسل کے بارے میں ترک صدارت برائے دفاعی صنعت نے حالیہ تنازعات کو سامنے رکھتے ہوئے کثیر جہتی خاکہ پیش کیا جس میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والےخودمختار ڈرونز کی مرکزیت، نظام کے نظام کے اندر انضمام کی اولین حیثیت، بقا کی بڑھتی ہوئی اہمیت، کم ریڈار دستخطوں کا احاطہ، الیکٹرانک جنگ کی لچک، اور محفوظ ڈیٹا لنک شامل ہیں۔ اور یہی وہ خصوصیات ہیںکو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل کے ترکیہ کے بغیر پائلٹ کے پلیٹ فارمز کو پانچویں نسل کے جنگی طیاروں کو ذہن میں رکھتے ہوئے انٹرآپریبلٹی کے ساتھ ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔اس ضمن میں ترکیہ کے ٹی بی۔3، انکا۔3، کزیلیلمااور پانچویں نسل کا لڑاکا طیارہ کان تہہ دار فضائی دفاعی نظام کو تزویراتی پروگرام کی حیثیت سے نشان زد کرتےہوئے انہیں ترکیہ کی مستقبل کی برآمدی صلاحیت کا اہم جز قرار دیا گیا ہے۔
انفرادی طور پر ترکیہ کے پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے کان کوٹیکنالوجی کے ایک شاہکار کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو ایویونکس، سینسرز، جدید مواد، ہتھیاروں کے انضمام، اور ٹیسٹ کے بنیادی ڈھانچے میں جدت کا مظہر ہے۔ خصوصاًکان اور بغیر پائلٹ کے جہاز انکا۔3 کے باہمی تال میل کو”بغیر پائلٹ جنگی ہوا بازی کے اگلے باب” کا نمائندہ قرار دیا گیا ہے۔ جو بغیر پائلٹ کے مربوط آپریشنز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
ترک صدارت برائے دفاعی صنعت نے ترکیہ کے بحری ہوا بازی کے وژن، بشمول مختصر رن وے کیریئر کے تصور کو خاص طور پر ان ممالک کے لیے جنہیں لچکدار اور کم لاگت کے حل کی ضرورت ہو ،بحری فضائی طاقت کے نئے امکانات کا حامل گرداناہے۔ جبکہ ملک میں بنائے جا رہے جنگی جہازوں، بغیر پائلٹ کے سطحی گاڑیوں (یو ایس ویز) اور بحری ہوابازی کے پلیٹ فارمز کے ماحولیاتی نظام کو ایک وسیع بحری ڈیٹرنس فن تعمیر کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان تمام پروگراموں کی مشترکہ خصوصیت یہ ہے کہ یہ الگ تھلگ منصوبے نہیں ہیں۔ یہ ایک ماحولیاتی نظام بناتے ہیں۔ اور جیسے جیسے یہ ماحولیاتی نظام پختہ ہوتا جائے گا ترکیہ کی برآمدی صلاحیتیں زیادہ جامع، زیادہ مربوط اور زیادہ موثر ہوتی جائیں گی۔
ترک صدارت برائے دفاعی صنعت کا کہنا ہے کہ آپ بہت سی چیزیں درآمد کر سکتے ہیں، لیکن آپ سیکورٹی درآمد نہیں کر سکتے۔ہم جغرافیائی سیاسی انتشار کے اس دور کے لیے بھی تیار ہیں۔ اب، ہم اپنے دوستوں اور اتحادیوں کے ساتھ اس تجربے، انفراسٹرکچر اور صنعتی صلاحیت کو شیئر کرنے کی پیشکش کر رہے ہیں۔ ترکیہ کے تعاون کے ماڈلز براہ راست حصول اور مقامی اسمبلی سے لے کر مشترکہ پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ آر اینڈ ڈی اور تیسرے ملک کی مارکیٹ تعاون تک ہو سکتے ہیں، جو ہر پارٹنر کی صنعتی بنیاد اور تزویراتی ترجیحات کے مطابق ہیں۔
چنانچہ نیٹو کےانقرہ سربراہی اجلاس اور اس سے آگے کے لیےترکیہ کا پیغام سیدھاہے کہ ترکیہ نیٹو کے دفاعی صنعتی ماحولیاتی نظام کے اندر مزید ذمہ داری لینے کے لیے تیار ہےکیونکہترکی کی مضبوط دفاعی صنعت کا مطلب ایک مضبوط اتحاد ہے۔












