تہران: (پاک ترک نیوز)ایران نے پائلٹس کے لیے باضابطہ فضائی اطلاع (NOTAM) جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعرات کو جنوبی علاقوں میں 3:30 جی ایم ٹی سے 13:30 جی ایم ٹی تک راکٹ لانچ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
یہ اطلاع امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کی ویب سائٹ پر بھی دیکھی گئی۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایران اس ہفتے آبنائے ہرمز میں بحری مشقیں کر چکا ہے اور جمعرات کو روس کے ساتھ مشترکہ بحری مشق کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے۔
NOTAM سسٹم پائلٹس، فلائٹ کریو اور فضائی حدود استعمال کرنے والوں کو اہم حفاظتی معلومات فراہم کرتا ہے، تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔
ادھر امریکی نائب صدرجےڈی وینس نے کہا ہے کہ واشنگٹن اس بات پر غور کر رہا ہے کہ تہران کے ساتھ سفارتی عمل جاری رکھا جائے یا دیگر آپشنز اختیار کیے جائیں۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے بھی واضح کیا کہ صدرڈونؒڈ ٹرمپ کی پہلی ترجیح سفارت کاری ہے، اور وہ ہمیشہ امریکہ کے بہترین مفاد کو سامنے رکھتے ہیں۔
دوسری جانب ذرائع نے بتایا ہےکہ امریکہ کی جانب سے ایران پر حملہ ممکن تو ہے، لیکن فوری دنوں میں ایسا ہونا ضروری نہیں۔ اسرائیلی حلقوں کے مطابق صدر ٹرمپ نے ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا، اگرچہ ایران کے مذاکراتی مؤقف پر ان کی مایوسی میں اضافہ ہوا ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ ایران نے ایک حساس فوجی مقام پر نئی تنصیب کے اوپر کنکریٹ شیلڈ تعمیر کر کے اسے مٹی سے ڈھانپ دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ وہی مقام ہے جسے 2024 ءمیں اسرائیل نے نشانہ بنایا تھا۔ مزید برآں، ایران نے جوہری تنصیب کے سرنگی راستوں کو مضبوط کیا اور میزائل اڈوں کی مرمت بھی کی ہے۔
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام پر نیا معاہدہ چاہتا ہے، لیکن مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دے رہا ہے۔












