تہران ( پاک ترک نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں خطرے کی گھنٹیاں ایک بار پھر بج اٹھیں۔ واشنگٹن سے تہران تک ہلچل مچا دی گئی ۔عراقی مزاحمتی تنظیم بھی میدان میں آ گئی ۔
عراقی مزاحمتی تنظیم اصحاب الکہف نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی تو جواب صرف عراق تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے میں موجود امریکی فوجی، انٹیلی جنس اور اسٹریٹجک مراکز نشانے پر ہوں گے۔
عراقی مزاحمتی تنظیم نے ایسا انتباہ جاری کر دیا ہے جس نے واشنگٹن سے تہران تک ہلچل مچا دی ہے۔
اصحاب الکہف یہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے اور امریکہ اور ایران کے درمیان محاذ آرائی کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ محاذ کھل گیا تو یہ صرف دو ملکوں کی جنگ نہیں ہوگی بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
جاری بیان میں سب سے چونکا دینے والا دعویٰ یہ کیا گیا ہے کہ ان کے پاس طویل فاصلے تک مار کرنے والے انتہائی درست ہتھیار موجود ہیں جو اب تک خفیہ رکھے گئے تھے اور یہی ہتھیار کسی بھی ممکنہ جنگ میں استعمال ہوں گے۔
سوال یہ ہے: کیا واقعی ایسے خفیہ ہتھیار موجود ہیں؟ کیا امریکی اڈے براہِ راست نشانے پر آ سکتے ہیں؟ اور اگر جنگ چھڑ گئی تو کیا مشرقِ وسطیٰ ایک اور بڑی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے؟ یہ انتباہ صرف ایک بیان نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے کہ آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال کسی بھی وقت ڈرامائی رخ اختیار کر سکتی ہے۔
کیا یہ نفسیاتی دباؤ ہے یا جنگ کی تیاری؟ فیصلہ آنے والا وقت کرے گا لیکن خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے۔












