تہران (پاک ترک نیوز) امریکہ کی ایران کیخلاف بڑے اقدام کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو رہی ہیں۔مشرق وسطی میں صورتحال انتہائی تیزی کے ساتھ ممکنہ فوجی تصادم کی جانب بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے ۔امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ نقل و حرکت نے کسی بڑے اقدام کی طرف توجہ مبذول کروادی ہے۔
واشنگٹن اور یروشلم میں اعلیٰ سطح کے سیکیورٹی اجلاسوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، اور اسرائیل میں ہسپتالوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ نے ایران کے قریب اپنے بعض اہم فوجی اڈوں سے عملے کی منتقلی کا عمل شروع کردیا ہے جسے ماہرین ممکنہ جوابی کارروائی سے بچائو کی حکمت عملی قرار دے رہے ہی ۔
وہیں اسرائیل کے بن گوریون ایئرپورٹ پر امریکی فضائیہ کے ری فیولنگ ٹینکرز کی موجودگی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ طویل فاصلے کے فضائی مشنز کی تیاری کی جا رہی ہے۔
بھارت کی جانب سے بھی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں جو عموماً ہنگامی حالات کے خدشے کے پیش نظر کی جاتی ہے ۔دوسری جانب علاقائی سمندری راستوں پر بھی غیر معمولی احتیاط برتی جا رہی ہے اور تیل بردار جہازوں کو حساس گزرگاہوں سے عارضی طور پر گریز کا مشورہ دیا گیا ہے، جو ممکنہ خطرات کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔












