موگادیشو : (پاک ترک نیوز)صومالیہ اور پاکستان کے درمیان 24 جے ایف 17 تھنڈر بلاک تھری جنگی طیاروں کی خریداری سے متعلق مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جو صومالیہ کے دفاعی نظام میں 1991 کے بعد سب سے بڑی جدید کاری تصور کی جا رہی ہے۔
اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ نہ صرف صومالیہ کی فضائی صلاحیتوں کو نئی زندگی دے گا بلکہ پورے افریقہ میں فضائی طاقت کے توازن کو بھی متاثر کرے گا۔
اقوام متحدہ کی جانب سے دسمبر 2023 میں اسلحہ پابندی کے خاتمے کے بعد صومالیہ نے اپنی دفاعی حکمتِ عملی پر نظرِثانی کی، جس کے تحت اب بیرونی انحصار کے بجائے خودمختار فضائی اور بحری دفاع کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
مجوزہ معاہدے کے تحت صومالیہ دو مکمل اسکواڈرنز پر مشتمل جدید ملٹی رول فائٹر طیارے حاصل کر سکے گا، جو اس کی وسیع فضائی حدود اور 3 ہزار 300 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی کی نگرانی کیلئے نہایت اہم ہوں گے۔
فروری 2026 میں صومالی فضائیہ کے سربراہ محمد شیخ کی قیادت میں اعلیٰ سطح وفد کا اسلام آباد کا دورہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ مذاکرات محض ابتدائی مرحلے میں نہیں بلکہ ریاستی سطح کے سنجیدہ دفاعی معاہدے کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق جے ایف 17 تھنڈر بلاک تھری اپنی قیمت اور صلاحیت کے لحاظ سے ابھرتی ہوئی فضائی افواج کیلئے ایک متوازن انتخاب ہے۔ ایک طیارے کی قیمت تقریباً 30 سے 40 ملین ڈالر ہے، جو مغربی جنگی طیاروں کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔
بلاک تھری ورژن جدید اے ای ایس اے ریڈار، جدید الیکٹرانک وارفیئر سسٹم، ہیلمٹ ماؤنٹڈ ڈسپلے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے لیس ہے۔یہ طیارہ نہ صرف فضائی دفاع بلکہ بحری نگرانی، اینٹی شپ حملوں اور جدید جنگی مشنز کی صلاحیت رکھتا ہے، جو صومالیہ کو قزاقی، اسمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں سے نمٹنے میں مدد دے سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق جے ایف 17 کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس پر مغربی ممالک کی سیاسی پابندیاں یا سخت شرائط لاگو نہیں ہوتیں، جس سے صومالیہ کو دفاعی خودمختاری حاصل ہو گی۔
یہ معاہدہ ممکنہ طور پر قطر کی مالی معاونت اور ترکی کی سفارتی سہولت کاری سے بھی جڑا ہو سکتا ہے، جو مسلم دنیا میں دفاعی تعاون کے ایک نئے بلاک کی نشاندہی کرتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ منصوبہ صومالیہ کی تین دہائیوں پر محیط فضائی کمزوری کے خاتمے اور ایک خودمختار، جدید فضائی طاقت کی بحالی کی جانب ایک فیصلہ کن قدم قرار دیا جا رہا ہے۔












