واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ آئندہ مذاکراتی دور میں ایرانی وفد، جس کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے، محض رسمی گفتگو کے بجائے ’’ٹھوس اور بامعنی تجاویز‘‘ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آئے۔
دی یروشلم پوسٹ کے مطابق، امریکی حکام نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ جوہری معاملے سمیت دیگر امور پر حقیقی رعایتیں پیش کرے، جبکہ تہران نے یورینیم افزودگی مکمل طور پر روکنے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔جمعے کے روز عمان میں امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف، جیرڈ کشنر اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے عباس عراقچی اور دیگر سینئر ایرانی حکام سے ملاقات کی تھی۔
ذرائع کے مطابق اس پہلی ملاقات کو ’’اچھی ملاقات‘‘ قرار دیا گیا، تاہم گفتگو کا مرکز مذاکرات کے طریقۂ کار پر رہا، بنیادی تنازعات پر نہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ توقع کر رہا ہے کہ آئندہ ملاقات میں ایران جوہری پروگرام پر عملی لچک دکھائے گا اور قابلِ قبول تجاویز پیش کرے گا۔
دوسری جانب عباس عراقچی نے واضح کیا کہ یورینیم افزودگی مکمل طور پر روکنا ایران کیلئے ناقابلِ قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا محور ایسے نکات ہونے چاہئیں جن میں افزودگی کا عمل جاری رہے، البتہ اس بات کی ضمانت دی جائے کہ یہ صرف پرامن مقاصد کیلئے ہے۔
عراقچی نے یہ بھی دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ میزائل پروگرام اور خطے میں ایران کے اتحادی گروہوں کا معاملہ مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا، ’’مذاکرات صرف جوہری مسئلے تک محدود رہیں گے، اور یہی اس کا دائرہ کار ہوگا۔‘
‘ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو منگل کے روز امریکہ روانہ ہوں گے، جہاں بدھ کو ان کی وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات طے ہے۔
اسی دوران اتوار کو اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں یہ مؤقف سامنے رکھا گیا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں اس کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی راہ روکنا، بیلسٹک میزائلوں پر پابندیاں عائد کرنا اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت کا خاتمہ لازمی ہونا چاہیے۔












