لاہور( پاک ترک نیوز) برطانوی میڈیا نے بنگلا دیش کے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سے نکل جانے پر جو آرٹیکل لکھے ہیں، اُن میں کہا گیا ہے کہ انگلینڈ، آسٹریلیا، سائوتھ افریقا، ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ اس لیے بنگلا دیش کیخلاف گئے کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ ایشین بلاک ٹوٹے اور بی سی سی آئی کی داداگیری ختم ہو۔ پاکستان اور بنگلا دیش انڈین بورڈ کیخلاف کھڑے ہو جائیں۔ خصوصی طور پر انگلینڈ اور آسٹریلیا قطعاً یہ نہیں چاہتے کہ جے شاہ اپنے طریقے سے آئی سی سی کو چلائے۔ دونوں ممالک جے شاہ سے تنگ ہیں کیونکہ سارے ایونٹس اس نے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ کرکٹ ماہرین کے مطابق آسٹریلیا اور انگلینڈ اس گھات میں بیٹھے ہیں کہ آئی سی سی کمزور ہو اور اس کی باگ دوڑ واپس ان کے پاس چلی جائے۔ امبانی گروپ جو رائٹس خریدتا ہے، اس کی وجہ سے ہی یہ ساری دادا گیری چل رہی ہے۔
دوسری جانب جمعے کا دن گزر چکا ہے لیکن حکومت یا پی سی بی کی جانب سے ابھی تک کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ لیکن پاکستانی کھلاڑیوں کی تیاریاں جاری ہیں۔ جبکہ آئی سی سی کو بھی لگتا ہے کہ پاکستان اپنی ٹیم لے کر آ رہا ہے۔ لیکن پی سی بی کا اصولی موقف ہے کہ بنگلا دیش کیساتھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق حکومت پاکستان قومی ٹیم کو ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں جانے کی اجازت دیدے لیکن شاید پاک انڈیا میچ نہ ہو۔ اب فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف نے کرنا ہے اور سب کی نظریں، اُن کی جانب مرکوز ہیں۔












